وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل ، 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا

وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل ، 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا

آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی پیشی کی تاریخ میں تبدیلی کر دی گئی ہے، جس کے تحت اب بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، جبکہ قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کا اہم اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان بجٹ اور پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) سے متعلق مذاکرات تاحال جاری ہیں، جس کے باعث بجٹ پیش کرنے کے شیڈول میں ردوبدل کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ اب 8 یا 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے، تاہم حتمی تاریخ کا فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔ نئی تاریخ کا باضابطہ اعلان مشاورت مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت کل ہونے والا قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا ہے۔ اجلاس میں وفاقی اور صوبائی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی جانی تھی، جبکہ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وزرائے خزانہ اور وزیراعظم آزاد کشمیر کی شرکت بھی متوقع تھی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی نئی تاریخ بعد میں جاری کی جائے گی۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں 200 ارب روپے اضافے کی تجویز زیر غور ہے۔ ترقیاتی بجٹ میں اس اضافے سے متعلق آئی ایم ایف کو بھی آگاہ کیا جائے گا اور مختلف مالیاتی اقدامات کے ذریعے اس رقم کی ایڈجسٹمنٹ کی کوشش کی جائے گی۔

مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کے تحت قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں صوبوں کے لیے مجموعی طور پر 3 ہزار 138 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش کیا جانا تھا۔ اس میں پنجاب کے لیے ایک ہزار 450 ارب روپے، سندھ کے لیے 816 ارب روپے، خیبرپختونخوا کے لیے 564 ارب روپے جبکہ بلوچستان کے لیے 308 ارب روپے مختص کیے جانے کی تجویز شامل ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق بجٹ کی حتمی تیاری اور آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مشاورت مکمل ہونے کے بعد وفاقی بجٹ اور ترقیاتی پروگرام کی نئی تاریخوں کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔

Scroll to Top