خیبر پختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کے ناراض گروپ اور حکومت کے درمیان جاری اختلافات ختم نہ ہو سکے، جس کے باعث مفاہمت کی تمام کوششیں ناکام ہوگئیں۔
ذرائع کے مطابق ناراض حکومتی ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج دوبارہ اجلاس طلب کر لیا ہے۔
ناراض ارکان کا مؤقف ہے کہ وہ اپنے مطالبات پر قائم ہیں اور اس حوالے سے حکومت کی جانب سے اب تک کوئی تسلی بخش پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے واضح یقین دہانی درکار ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق اسپیکراسد قیصر اور سابق صوبائی وزیرشوکت یوسفزئی نے بھی ناراض ارکان سے رابطے کی کوشش کی، تاہم گروپ نے حکومت کے علاوہ کسی بھی فریق سے مذاکرات سے انکار کر دیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ان کا کوئی فارورڈ بلاک نہیں ہے، تاہم اگر ایسا کوئی گروپ سامنے آتا ہے تو وہ اسے پارٹی قیادت کے مؤقف کے خلاف تصور کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں : ایل نینو: بننے کا خدشہ برقرار، دنیا میں گرمی بڑھے گی اور زیادہ بارشیں ہوں گی، یو این
ان کا مزید کہنا ہے کہ وہ حکومت کی پالیسیوں سے ناراض ہیں اور اس حوالے سے مرکزی قیادت کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔
ارکان کے مطابق قیادت کو باقاعدہ خط بھی ارسال کیا گیا ہے، تاہم اب تک چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
صورتحال کے پیش نظر ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج ایک بار پھر اجلاس طلب کر لیا ہے۔





