وفاقی حکومت کی جانب سے قانونی و غیر قانونی افغان مہاجرین کو 31 مارچ تک پاکستان چھوڑنے کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے، سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم افغان مہاجرین کوسکول چھوڑنے کے نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔
حکومت کی جانب سے افغان مہاجرین کو ملک بدر کرنے کے فیصلے کے بعد ہزاروں بچوں اور بچیوں کا تعلیمی سفر خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع کے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں افغان بچے بچیاں زیر تعلیم ہیں، جنہیں حکومت نے سکول چھوڑنے کے نوٹس جاری کر دیے ہیں جس پر عملدرآمد بھی شروع ہو چکا ہے۔
حکومت پاکستان کے فیصلے کے بعد افغان بچیاں جو سرکاری و نجی اداروں میں زیر تعلیم ہیں وہ اپنے تعلیمی مستقبل کیلئے بہت فکر مند دکھائی دے رہی ہیں، ان کو یہ بھی پریشانی ہیں کہ اگر افغانستان واپس چلے گئے تو وہاں پہلے سے ہی لڑکیوں کے تعلیم حاصل کرنے پر پابندی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افغان مہاجرین کے انخلاکے اعلان پر خیبر پختونخوا کے عوام بھی خوش
افغانستان کے شہر کابل سے تعلق رکھنے والی بچی عائشہ جو پشاور کے ایک نجی ادارے میں انگلش زبان اور کمپیوٹر کا کورس کر رہی ہے
وہ کہتی ہیں افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے کے بعد وہاں لڑکیوں کی تعلیم پر عائد پابندی کے باعث ہمیں مجبوراً ملک چھوڑنا پڑا مقصد یہ تھا کہ کسی ایسے ملک جا سکوں جہاں تعلیم حاصل کر سکوں
عائشہ کا کہنا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ اگر وہ واپس افغانستان چلی گئی تو ان کا تعلیم حاصل کرنے کا خواب ادھورا رہ جائے گا۔
اعداد و شمار کے مطابق پشاور اور اس کے نواحی علاقوں میں افغان مہاجرین کے 37 نجی سکولوں میں 10 ہزار سے زائد طلبا و طالبات زیر تعلیم ہیں۔
یو این ایچ سی آر کے مطابق خیبر پختونخوا میں افغان مہاجرین کی 43 بستیوں میں قائم 103 سکولوں میں 55 ہزار سے زائد طلبا و طالبات تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔





