ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ روزمرہ غذا میں نمک کا زیادہ استعمال متعدد سنگین طبی مسائل کا سبب بن سکتا ہے، جن میں ہائی بلڈ پریشر، امراض قلب، فالج اور قبل از وقت موت کا خطرہ شامل ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق نمک جسم کے لیے ایک ضروری غذائی جزو ہے، تاہم اس کا ضرورت سے زیادہ استعمال صحت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں افراد نمک کے زیادہ استعمال سے جڑے امراض کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔
نمک بنیادی طور پر سوڈیم اور کلورائیڈ پر مشتمل ہوتا ہے اور کھانوں کا ذائقہ بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اگرچہ جسم کو روزانہ معمولی مقدار میں نمک کی ضرورت ہوتی ہے، تاہم عالمی ادارہ صحت نے روزانہ 5 گرام، یعنی تقریباً ایک چائے کے چمچ نمک استعمال کرنے کی سفارش کی ہے۔
ماہرین کے مطابق نمک کا زیادہ استعمال مختصر مدت میں بھی مختلف جسمانی مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔ ان میں پیٹ پھولنا، بلڈ پریشر میں اضافہ، ہاتھوں، پیروں اور چہرے پر سوجن، غیر معمولی پیاس اور بار بار پیشاب آنے جیسی علامات شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : رات دیر تک موبائل کا استعمال کس خطرناک بیماری کا سبب بنتا ہے؟ ماہرین نے بتادیا
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ نمک جسم میں پانی جمع ہونے کا باعث بنتا ہے، جس کے نتیجے میں وزن بڑھ سکتا ہے اور جسمانی کمزوری بھی محسوس ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ نمک کی زیادتی نیند کے معیار کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ نظامِ ہاضمہ کے مسائل، متلی اور دیگر پیچیدگیوں کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی روزمرہ خوراک میں نمک کے استعمال کو متوازن رکھیں اور اگر بلڈ پریشر، سوجن یا دیگر علامات کا سامنا ہو تو معالج سے مشورہ ضرور کریں۔
طبی ماہرین کے مطابق متوازن غذا اور نمک کے مناسب استعمال سے دل، گردوں اور مجموعی صحت کو بہتر رکھا جا سکتا ہے۔





