وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ دارالحکومت پر چڑھائی کرنے والے سیاسی گروہوں کے خلاف اب کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی اور ریاست اپنی رٹ قائم رکھنے کے لیے سخت اقدامات کرے گی۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینیتر رانا ثنااللہ نے کہا کہ حکومت نے 9 جون کی احتجاجی کال واپس لینے کے لیے ایکشن کمیٹی کو متعدد تجاویز دی تھیں اور مذاکرات کے دوران احتجاج ختم کرنے کی صورت میں مطالبات پر غور کی یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی، تاہم کمیٹی نے احتجاج جاری رکھنے پر اصرار کیا اور مذاکراتی عمل سے بائیکاٹ افسوسناک ہے۔
رانا ثنا اللہ کے مطابق ایکشن کمیٹی اپنے مطالبات دباؤ کے ذریعے منوانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، جبکہ پی ٹی آئی مخصوص مائنڈ سیٹ کے باعث سیاسی اور مذاکراتی عمل سے دور ہو رہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ ریاستی مفاہمت کا راستہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے، تاہم شرپسندی اور انتشار پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ آئینی حدود عبور کرنے والے عناصر کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا اور کسی کو جتھا بندی کے ذریعے ملک میں انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ ریاست پر قابض ہونے کی دھمکی دینے والے عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان انتخابات،مضبوط سیاسی رہنما ن لیگ کے حق میں دستبردار
وزیر داخلہ نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی مسلسل ریاستی نظام پر حملہ آور ہے اور اپنے فیصلوں کی وجہ سے سیاسی عمل سے دور ہو چکی ہے، انتخابی عمل سے دوری ان کی اپنی غلطیوں کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ عام انتخابات اور ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) بھرپور حصہ لے رہی ہے اور متعدد حلقوں میں پارٹی کی پوزیشن مضبوط ہے جبکہ انتخابی نتائج میں کامیابی کا اعتماد موجود ہے۔
فلاحی پروگراموں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ غربت کے خاتمے کے موجودہ نظام میں بہتری کی ضرورت ہے، اور سوشل پروٹیکشن پروگرامز کو ہنر مندی اور روزگار سے جوڑ کر زیادہ مؤثر بنایا جانا چاہیے۔





