پاکستان نے افغانستان سے دہشتگرد حملوں کو عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دے دیا

اقوام متحدہ: پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں افغانستان کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین اب بھی دہشت گرد تنظیموں کیلئے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہی ہے، جس کے باعث پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ عالمی امن کیلئے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے انسانی ہمدردی، سیاسی روابط اور تجارت کے فروغ کیلئے متعدد اقدامات کیے اور امید تھی کہ طالبان حکومت وعدوں کی پاسداری کرتے ہوئے ایک ذمہ دار انتظامیہ کے طور پر کردار ادا کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں : وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش نہیں ہوگا، ممکنہ تاریخ سامنے آگئی

انہوں نے کہا کہ توقع تھی کہ طالبان حکومت کالعدم ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور داعش جیسے گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرے گی، تاہم بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا اور پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

عاصم افتخار کے مطابق افغانستان میں دہشت گردوں کو حاصل آزادی کے باعث پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جبکہ متعدد شواہد موجود ہیں کہ دہشت گرد غیر ملکی افواج کے چھوڑے گئے اربوں ڈالر مالیت کے جدید عسکری سازوسامان کا استعمال کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک جدید ہتھیاروں کی ضبطی کے 290 سے زائد واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، جبکہ 2025 کے دوران پاکستان کو 5300 سے زائد دہشت گردی کے واقعات کا سامنا کرنا پڑا، جن میں 1200 سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

مستقل مندوب نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پولیس چوکی پر حملے کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت دہشت گرد عناصر کے ساتھ مبینہ تعاون کے باعث ایک خطرناک راستہ اختیار کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : عدالتی اوقات میں موبائل فون استعمال بند، نیا حکم نامہ جاری

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے تحفظ کیلئے حقِ دفاع کے تحت جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور خاموش تماشائی نہیں رہ سکتا۔

عاصم افتخار نے کہا کہ قطر، ترکیہ، سعودی عرب اور چین نے مفاہمت کیلئے مخلصانہ کوششیں کیں، تاہم طالبان کی جانب سے کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے سے لاتعلقی اختیار نہ کرنا سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیکرٹری جنرل کی رپورٹ میں افغان چیلنجز کی ذمہ داری بیرونی عوامل پر ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے، جبکہ ہلاک دہشت گردوں کو شہری ہلاکتوں میں شامل کرنا یو این رپورٹنگ کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کو بنیادی انسانی حقوق اور وقار سے محروم رکھا جا رہا ہے، جبکہ چار دہائیوں سے پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کا بوجھ برداشت کیا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ افغان شہریوں کی تیسرے ممالک میں آبادکاری کے زیر التوا معاملات کو واضح کرے اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی یقینی بنائی جائے۔ ان کے مطابق طالبان حکومت کیلئے درست سمت اختیار کرنے کا وقت تیزی سے کم ہو رہا ہے۔

Scroll to Top