عالمی سونے کی مارکیٹ میں منگل کے روز قیمتیں نسبتاً مستحکم رہیں، جہاں سپاٹ گولڈ معمولی اضافے کے ساتھ 4,333.91 ڈالر فی اونس کے قریب ٹریڈ کرتا رہا۔
بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق عالمی منڈی اس وقت غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ ایک جانب مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ جنگ بندی کے اشارے مل رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب مہنگائی کے دباؤ اور امریکی فیڈرل ریزرو کی ممکنہ پالیسی تبدیلیاں سرمایہ کاروں کے فیصلوں کو متاثر کر رہی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سرمایہ کار اس ہفتے جاری ہونے والے امریکی کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) کے اعداد و شمار کے منتظر ہیں، جو آئندہ مالی پالیسی اور شرحِ سود کے فیصلوں پر اہم اثر ڈال سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق فیڈرل ریزرو شرحِ سود میں کمی کو 2027 تک مؤخر کر سکتا ہے، جس کے باعث ڈالر کی مضبوطی برقرار رہنے اور سونے کی قیمتوں پر دباؤ رہنے کا امکان ہے۔
تاہم بعض عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جغرافیائی کشیدگی، مہنگائی اور مرکزی بینکوں کی سونے کی خریداری کا رجحان جاری رہا تو سونے کی قیمتیں سال کے اختتام تک دوبارہ 5,500 ڈالر فی اونس کی سطح کو چھو سکتی ہیں۔ اس صورت میں پاکستان میں فی تولہ سونا ساڑھے 5 لاکھ روپے سے بھی تجاوز کر سکتا ہے۔
دوسری جانب چاندی، پلاٹینم اور پیلیڈیم کی قیمتوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے، جو عالمی قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ میں جاری غیر یقینی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔





