اسلام آباد: گردے انسانی جسم کے اہم ترین اعضا میں شمار ہوتے ہیں جو خون کو صاف کرنے، زہریلے مادوں اور اضافی سیال کو خارج کرنے کے ساتھ ساتھ جسم میں مختلف ضروری اجزا کے توازن کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق بعض عام عادات اور طرزِ زندگی کے عوامل گردوں کی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ہر 10 میں سے ایک فرد گردوں کے دائمی امراض کا شکار ہے، جبکہ کئی ایسی روزمرہ عادات ہیں جو بظاہر بے ضرر دکھائی دیتی ہیں لیکن وقت کے ساتھ گردوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق پروٹین کا ضرورت سے زیادہ استعمال گردوں پر اضافی دباؤ ڈالتا ہے، خصوصاً ایسے افراد میں جنہیں پہلے سے گردوں کے مسائل لاحق ہوں۔ اسی طرح نمک کا زیادہ استعمال نہ صرف بلڈ پریشر بڑھاتا ہے بلکہ گردوں میں پتھری کے خطرے میں بھی اضافہ کرتا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تمباکو نوشی گردوں کی جانب خون کے بہاؤ کو متاثر کرتی ہے اور ہائی بلڈ پریشر و ذیابیطس جیسے امراض کی شدت بڑھا دیتی ہے، جو گردوں کی بیماریوں کے بڑے اسباب میں شمار ہوتے ہیں۔ بعض تحقیقات کے مطابق تمباکو نوشی سے گردوں کے کینسر کا خطرہ بھی نمایاں حد تک بڑھ سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق میٹھے مشروبات، خصوصاً سوڈا اور شوگر سے بھرپور ڈرنکس کا زیادہ استعمال بھی گردوں کے دائمی امراض کے خطرے میں اضافہ کرتا ہے۔ اسی طرح جسم میں پانی کی کمی گردوں کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے اور پتھری یا انفیکشن جیسے مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : قومی ٹیم نہیں تو کیا؟ فیفا ورلڈ کپ میں پاکستان پھر بھی موجود، لیکن کیسے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ درد کش ادویات کا بے جا استعمال بھی گردوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ ان ادویات سے گردوں کو خون کی فراہمی متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے ایسی ادویات ہمیشہ ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کرنی چاہئیں۔
اس کے علاوہ موٹاپا اور اضافی جسمانی وزن بھی گردوں کی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ذیابیطس ٹائپ ٹو اور ہائی بلڈ پریشر جیسے امراض، جو موٹاپے سے جڑے ہوئے ہیں، گردوں کی بیماریوں کے خطرے کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔
طبی ماہرین نے الکحل کے استعمال کو بھی گردوں کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے گردوں کے دائمی امراض کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ متوازن غذا، مناسب مقدار میں پانی کا استعمال، تمباکو نوشی سے اجتناب، صحت مند وزن برقرار رکھنا اور ادویات کا محتاط استعمال گردوں کو صحت مند رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔





