وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت کو آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مذاکرات میں اہم کامیابی حاصل ہوئی ہے، عالمی مالیاتی ادارے نے سولر پینلز اور اسٹیشنری پر مجوزہ ٹیکس واپس لینے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت کی درخواست پر سولر پینلز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے بجٹ میں سولر پینلز پر سیلز ٹیکس 10 فیصد برقرار رہنے کا امکان ہے۔
طلبہ اور والدین کے لیے بھی بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے، کیونکہ اسٹیشنری اشیا پر مجوزہ 18 فیصد سیلز ٹیکس نہ لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ اور تمباکو مصنوعات پر ٹیکسوں میں کسی بڑی تبدیلی کا امکان نہیں، جبکہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر سے متعلق معاملات پر حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان تاحال اتفاق رائے نہیں ہو سکا اور مذاکرات جاری ہیں۔
دوسری جانب تنخواہ دار طبقے کے لیے تقریباً 60 ارب روپے کے ریلیف پیکیج کا اعلان متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق ٹیکس سلیب کی بالائی حد 41 لاکھ روپے سے بڑھا کر 70 لاکھ روپے کرنے کی تجویز پر اتفاق ہو گیا ہے جبکہ زیادہ آمدن رکھنے والوں پر عائد 10 فیصد سرچارج ختم کیے جانے کا بھی امکان ہے۔
اسی طرح 6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے سالانہ آمدن والے ملازمین کے موجودہ ٹیکس سلیب برقرار رہنے کی توقع ہے۔





