وفاقی حکومت نے ملک میں لیکویفائیڈ نیچرل گیس یعنی ایل این جی کی قیمتوں میں 16.17 فیصد تک کا بھاری اضافہ کر دیا ہے جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
اوگرا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کے نظام پر ایل این جی کی قیمت میں 2.54 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد نئی قیمت 19.52 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کر دی گئی ہے جبکہ مئی میں یہ قیمت 16.98 ڈالر مقرر تھی۔
اسی طرح سوئی سدرن گیس کمپنی کے نظام پر ایل این جی کی قیمت میں 2.59 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ کیا گیا ہے۔ اس ردوبدل کے بعد سوئی سدرن کے صارفین کے لیے نئی قیمت 18.64 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہو گئی ہے جو مئی کے مہینے میں 16.04 ڈالر پر ریکارڈ کی گئی تھی۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ ان نئی قیمتوں کا اطلاق ملک بھر میں فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔
دوسری جانب مشیر برائے نجکاری محمد علی نے حکومت کے معاشی اقدامات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے ملک میں ٹیکس نیٹ کا دائرہ کار وسیع کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ اپنے ایک اہم بیان میں مشیر نجکاری نے واضح کیا کہ حکومت کی اولین ترجیح سرمایہ کاری کو فروغ دینا، نجی شعبے کی بھرپور حوصلہ افزائی کرنا اور ٹیکس نیٹ میں مزید توسیع کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی، نوٹیفکیشن جاری
انہوں نے کہا کہ ملک میں سرمایہ کاری کے لیے انتہائی سازگار ماحول فراہم کیا جا رہا ہے جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں اور پاکستان کی معیشت اب مستحکم سمت میں گامزن ہو چکی ہے۔ مشیر نجکاری نے اہم پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اسلام آباد، کراچی اور لاہور کے ہوائی اڈوں کو نجی شعبے کے حوالے کیا جا رہا ہے جبکہ وفاقی دارالحکومت میں بین الاقوامی معیار کے فائیو اسٹار ہوٹلز کی تعمیر کا کام بھی تیزی سے جاری ہے۔





