بابر اعظم کی واپسی، کپتانی قبول کرنے سے قبل کونسی شرائط رکھیں؟ بالآخر پردہ اٹھ گیا

بابر اعظم کی واپسی، کپتانی قبول کرنے سے قبل کونسی شرائط رکھیں؟ بالآخر پردہ اٹھ گیا

عاقب جاوید نے واضح کیا ہے کہ بابر اعظم نے کپتانی سنبھالنے کیلئے کوئی شرط نہیں رکھی، اور امید ظاہر کی ہے کہ اس تبدیلی سے قومی ٹیم کی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے دورہ ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے لیے قومی ٹیسٹ اسکواڈ کا اعلان کرتے ہوئے قیادت میں اہم تبدیلی کر دی ہے، جس کے تحت شان مسعود سے کپتانی واپس لے کر بابر اعظم کو دوبارہ ٹیسٹ ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا ہے۔

سلیکشن کمیٹی کے سربراہ عاقب جاوید کے مطابق یہ فیصلہ ٹیم کی مجموعی کارکردگی اور حالیہ نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب نئی قیادت کے حوالے سے مشاورت کی گئی تو اتفاقِ رائے سے بابر اعظم کے نام پر فیصلہ ہوا۔

عاقب جاوید نے واضح کیا کہ بابر اعظم نے کپتانی سنبھالنے کے لیے کوئی شرط نہیں رکھی۔ ان کے مطابق امید ہے کہ اس تبدیلی کے بعد قومی ٹیم کی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ کچھ عرصے میں پاکستان ٹیم کئی میچز انتہائی قریب جا کر ہاری، اور اگرچہ شان مسعود کی انفرادی کارکردگی بہتر رہی، لیکن بطور کپتان ٹیم سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ اسی بنیاد پر قیادت میں تبدیلی کا فیصلہ کیا گیا۔

سلیکشن کمیٹی کے مطابق دو طرفہ سیریز میں تسلسل اور بہتر نتائج نہایت اہم ہیں، جبکہ فاسٹ بولنگ اٹیک کی رفتار بھی ایک تشویش کا باعث بنی، جس پر مزید کام کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب سابق کپتان اور سلیکشن کمیٹی کے رکن مصباح الحق نے کہا کہ بابر اعظم کی تمام فارمیٹس میں اہمیت مسلمہ ہے۔ ان کے مطابق انہیں ٹیسٹ کپتانی ٹی ٹوئنٹی کی کارکردگی کی بنیاد پر نہیں دی گئی بلکہ مجموعی صلاحیت اور تجربے کو مدنظر رکھا گیا ہے۔
واضح رہے کہ بابر اعظم نے 2023 کے ورلڈ کپ کے بعد تمام فارمیٹس کی کپتانی چھوڑ دی تھی، جس کے بعد شان مسعود کو ٹیسٹ ٹیم کا کپتان بنایا گیا تھا۔ تاہم حالیہ عرصے میں ٹیم کی کارکردگی میں تسلسل نہ آنے کے بعد ایک بار پھر قیادت میں تبدیلی کی گئی ہے۔

Scroll to Top