پشاور: ورلڈ بینک کی جانب سے مالی معاونت ختم ہونے کے بعد محکمہ صحت خیبرپختونخوا نے نشتر آباد جنرل ہسپتال کو آؤٹ سورس کرنے کی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق عارضی انتظام کے تحت ہسپتال ایک غیر سرکاری تنظیم (این جی او) کے حوالے کر دیا گیا ہے، جبکہ مستقل بنیادوں پر اسے صوبائی کابینہ کی منظوری کے بعد ہیلتھ فاؤنڈیشن کے ذریعے نجی انتظام کے تحت چلانے کی تجویز زیر غور ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں تعینات مستقل سرکاری ملازمین کو پشاور کے بڑے تدریسی ہسپتالوں یا دیگر سرکاری طبی مراکز میں ایڈجسٹ کیا جائے گا۔
تاہم کنٹریکٹ اور ڈیلی ویج ملازمین کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے اور انہیں ملازمت سے فارغ کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ٹرینی ڈاکٹرز کا رہائش نہ ملنے پر احتجاج، وزیراعلیٰ سے نوٹس کا مطالبہ
یاد رہے کہ نشتر آباد جنرل ہسپتال کورونا وبا کے دوران صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کے مقصد سے قائم کیا گیا تھا۔
محکمہ صحت کے مطابق ورلڈ بینک کے مالی تعاون سے جاری منصوبہ 30 جون کو مکمل ہو چکا ہے، جس کے بعد ہسپتال کے انتظام و انصرام کے لیے آؤٹ سورسنگ کا فیصلہ زیر عمل ہے۔





