موسمِ گرما میں آم ہر کسی کی پسندیدہ غذا بن جاتے ہیں، تاہم ذیابیطس کے مریض اکثر اس بات پر پریشان رہتے ہیں کہ آیا آم کھانے سے بلڈ شوگر کی سطح خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے یا نہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق شوگر کے مریض آم کھا سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے اعتدال اور احتیاط ضروری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آم میں قدرتی مٹھاس اور کاربوہائیڈریٹس موجود ہوتے ہیں، جو جسم میں جا کر شکر میں تبدیل ہوتے ہیں، تاہم آم کا گلائسیمک انڈیکس (GI) تقریباً 51 ہے، جو نسبتاً کم تصور کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے مناسب مقدار میں آم کھانے سے بلڈ شوگر میں اچانک اور تیز اضافہ نہیں ہوتا۔
ماہرین کے مطابق آم میں موجود فائبر جسم میں شکر کے جذب ہونے کی رفتار کو سست کرتا ہے، جس سے خون میں شوگر کی سطح بتدریج بڑھتی ہے۔
تاہم ضرورت سے زیادہ آم کھانے سے بلڈ شوگر میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، اس لیے ذیابیطس کے مریضوں کو مقدار کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔
طبی ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ شوگر کے مریض ایک وقت میں آم کی دو سلائسز سے زیادہ نہ کھائیں اور آم کھانے کے بعد اپنے بلڈ شوگر لیول پر بھی نظر رکھیں۔
اس کے علاوہ آم کا جوس پینے سے گریز کریں، کیونکہ اس میں شکر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ بہتر ہے کہ آم دن کے وقت کھایا جائے اور اسی روز دیگر میٹھی غذاؤں سے بھی احتیاط کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں : روزانہ کافی پینا جگر کے سنگین امراض سے بچاؤ میں مددگار، نئی تحقیق
امریکا کی جارج میسن یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ پری ذیابیطس (Pre-diabetes) کا شکار افراد اگر روزانہ مناسب مقدار میں آم کھائیں تو ان کے جسم میں انسولین کی حساسیت بہتر ہو سکتی ہے اور بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت میں بھی بہتری آ سکتی ہے۔ تحقیق کے مطابق آم کھانے والے افراد میں جسمانی چربی میں بھی کمی دیکھی گئی۔
اسی طرح جون 2025 میں جرنل آف دی امریکن نیوٹریشن ایسوسی ایشن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ روزانہ تقریباً 330 گرام آم کھانے سے درمیانی عمر کی خواتین میں بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی سطح میں کمی دیکھی گئی، جبکہ بلڈ شوگر میں بھی تیزی سے اضافہ نہیں ہوا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ آم غذائیت سے بھرپور پھل ہے، تاہم ذیابیطس کے مریض اسے اپنی غذا میں شامل کرنے سے قبل اپنے معالج سے ضرور مشورہ کریں، تاکہ ان کی صحت اور بلڈ شوگر کی کیفیت کے مطابق مناسب مقدار کا تعین کیا جا سکے۔





