محمد سلمان یوسفزئی
خیبر پختونخوا اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے پشاور کے ایم ٹی آئی حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے خلاف موصول ہونے والی مختلف شکایات پر تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
ان شکایات میں ادارے کے اندر کرپشن، نئی بھرتیوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے سنگین الزامات شامل ہیں۔
اینٹی کرپشن حکام نے کارروائی کرتے ہوئے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے چیف انٹرنل آڈیٹر، ڈائریکٹر فنانس اور ڈائریکٹر پروکیورمنٹ کی اہم تقرریوں کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔
انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان اسامیوں کے اشتہارات، امیدواروں کی اسکریننگ لسٹ، شارٹ لسٹ، میرٹ لسٹ اور انٹرویو کا تمام ریکارڈ فوری فراہم کرے۔
حکام کی جانب سے امیدواروں کے تعلیمی و تجرباتی اسناد کے ساتھ ساتھ سلیکشن کمیٹی کی کارروائی کی تفصیلات بھی مانگی گئی ہیں۔ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کا کہنا ہے کہ اس ریکارڈ کی بروقت فراہمی سے انکوائری کو جلد از جلد کسی منطقی انجام تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔
دوسری جانب حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کی انتظامیہ نے بھرتیوں میں بے ضابطگیوں کے تمام الزامات اور افواہوں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ادارے میں تمام بھرتیاں مکمل شفافیت اور میرٹ کو مدنظر رکھ کر کی جاتی ہیں جن میں کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جاتی۔
انتظامیہ کے مطابق بھرتیوں کا یہ تمام عمل ایم ٹی آئی ایکٹ، طے شدہ قواعد و ضوابط اور حکومت کی منظور شدہ پالیسیوں کے عین مطابق سرانجام دیا گیا ہے۔
انتظامیہ نے واضح کیا کہ اس سے قبل بھی مختلف سرکاری اداروں کی جانب سے کی جانے والی جانچ پڑتال میں کسی قسم کی خلاف ورزی یا بے ضابطگی سامنے نہیں آئی۔
ہسپتال انتظامیہ نے عزم ظاہر کیا ہے کہ میرٹ، شفافیت اور احتساب کے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : ایل آر ایچ میں سالانہ 20 لاکھ سے زائد مریضوں کو صحت کارڈ پر مفت سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، ترجمان محمد عاصم
انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر پھیلائی جانے والی بے بنیاد افواہوں پر کان نہ دھریں کیونکہ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں اصلاحات اور مریضوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کا سلسلہ ہر حال میں جاری رہے گا۔





