بلوچستان میں گذشتہ 3 روز کے دوران دہشت گردی کے تین بڑے واقعات ہوئے ،ڈی جی آئی پی آر

بلوچستان میں امن و امان کی بحالی اور دہشت گردوں کے خاتمے تک آپریشنز کا سلسلہ جاری رہے گا،ڈی جی آئی ایس پی آر

پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نےکہا ہے کہ بلوچستان میں گزشتہ چار روز کے دوران دہشت گردی کے تین بڑے واقعات سامنے آئے ہیں۔

بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال پر اہم میڈیا بریفنگ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا پہلا واقعہ چار اور پانچ جولائی کی درمیانی رات کو پیش آیا، جہاں فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے بزدلانہ کارروائی کی۔

یہ حملہ ہنہ اوڑک کے علاقے ببرائی میں کیا گیا، جہاں دہشت گردوں نے وہاں کے پُرامن اور معصوم شہریوں پر حملہ کر کے امن و امان کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشتگردی کا دوسرا بڑا واقعہ منگی ڈیم کوئٹہ پمپنگ اسٹیشن کے علاقے میں پیش آیا، جہاں 9 پولیس اہلکار شہید ہوئے، جبکہ بعد میں ہونے والے حملے میں مزید 18 پولیس اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا، جس سے منگی میں شہید اہلکاروں کی مجموعی تعداد 27 ہو گئی۔

انہوں نے بتایا کہ زیارت میں دہشتگردوں نے پولیس چیک پوسٹوں پر حملے کیے، جہاں کارروائی کے دوران کم از کم 15 دہشتگرد مارے گئے، جبکہ شہید ہونے والے تمام پولیس اہلکار مقامی تھے، جنہوں نے فرض کی ادائیگی کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ آج خاران اور دالبندین میں ہونے والی کارروائیوں میں مزید 14 دہشتگرد ہلاک کیے گئے، جبکہ اس دوران سیکیورٹی فورسز کے 11 جوان بھی شہید ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے مؤثر کارروائیاں کرتے ہوئے مجموعی طور پر 54 دہشتگرد ہلاک کر دیے، جبکہ مختلف آپریشنز کے دوران وطن کے دفاع میں 42 جوان قربان ہوئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یرغمال بنائے گئے افراد کی بحفاظت رہائی کے لیے بروقت آپریشن کیا اور دہشتگردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی۔

بلوچستان کے بہادر اور غیور عوام نے دہشتگردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر امن و امان کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے الزام عائد کیا کہ بھارت بلوچستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ کراچی حملے کی ساری پلاننگ افغانستان میں ہوئی تھی اور کراچی میں حملہ کرنے والے 4 دہشتگردوں میں سے 3 کا تعلق افغانستان سے تھا جو افغان شہری تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگرد سرگرمیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے اور ان کارروائیوں میں افغان حکام کی پشت پناہی شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں : کوئٹہ: سریاب مل کے علاقے میں کالعدم بی ایل اے کا مدرسے پر دستی بم حملہ، 2 بچے شہید، ایک زخمی

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خوشحالی اور ترقی کے دشمن ان دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث ہیں، تاہم بلوچستان کی ترقی دراصل پاکستان کی ترقی ہے اور ریاست دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر سطح پر تعاقب جاری رکھے گی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک سے دہشتگردی کے ناسور کے خاتمے اور بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ریاستِ پاکستان کا دہشتگردی کے خلاف مؤقف واضح اور غیر مبہم ہے اور یہ جنگ پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی، جبکہ “فتنہ الخوارج” کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے عزم کا اظہار کیا کہ دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نیچا نہیں دکھا سکتی اور ملک کے دفاع، امن اور استحکام کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھا جائے گا۔

 

Scroll to Top