افغانستان کے عبوری وزیر زراعت مولوی عطاء اللہ عمری نےمودی کو خوش کرنے کیلئے دعویٰ کیا کہ افغان اور بھارتی عوام کا ڈی این اے ایک ہے اور نئی دہلی آ کر انہیں بالکل اجنبیت کا احساس نہیں ہوا۔
فورم کے دوران چند تجارتی مراعات اور افغان خشک میوہ جات کی فروخت کے لیے طالبان وزیر کا مودی سرکار کو خوش کرنے کا یہ انداز ان کے اپنے ہی کٹر نظریاتی دعووں کے منہ پر زور دار طماچہ ہے، جو خود کو ایک خاص نظریے کا واحد ٹھیکیدار پیش کرتے ہیں لیکن چند معاشی سودوں کی خاطر تاریخ اور آباؤ اجداد کو بھی فراموش کر بیٹھے ہیں۔
دوسری جانب بھارتی مودی سرکار کی بدترین منافقت اور دوغلی پالیسی بھی پوری دنیا کے سامنے ننگی ہو چکی ہے۔ جو نئی دہلی عالمی فورمز پر دن رات انتہا پسندی کے خلاف واویلا کرتی ہے اور جس نے اپنے ملک کے اندر اقلیتوں کا جینا محال کر رکھا ہے، وہی مودی سرکار آج صرف اپنے جغرافیائی اور سیاسی مفادات کی ہوس میں انہی طالبان وزراء کے استقبال میں بچھ بچھ جا رہی ہے جن کے خلاف وہ ماضی میں زہر اگلتی رہی ہے۔ اپنے اندھے سیاسی مفادات کی خاطر بھارتی اسٹیبلشمنٹ نے اپنے تمام سیکیورٹی بیانیے اور نام نہاد سیکولر دعوؤں کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین تجارتی شراکت داری کے نام پر سجایا گیا یہ تماشہ دونوں اطراف کی شدید بے حسی اور سیاسی دیوالیہ پن کا عکاس ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مودی کو آسٹریلیا، انڈونیشیا اور نیوزی لینڈ کے دورے میں تاریخی سفارتی رسوائی کا سامنا
صارفین کا کہنا ہے کہ ایک طرف بین الاقوامی تنہائی کا شکار طالبان حکومت معاشی بقا کے لیے کسی بھی حد تک گرنے کو تیار نظر آتی ہے، تو دوسری طرف خطے میں اچھل کود کرنے والی مودی سرکار اپنے اسٹریٹجک کارڈ کھیلنے کے لیے ایک ایسے کٹر نظریے کے گلے مل رہی ہے جو خود بھارت کے اپنے داخلی حالات اور وجود کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔





