اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ملک بھر کی جامعات میں ٹینیور ٹریک سسٹم (ٹی ٹی ایس) کے تحت خدمات انجام دینے والے اساتذہ کے لیے تنخواہوں میں 35 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ نظرثانی شدہ تنخواہوں کا اطلاق یکم جولائی 2026ء سے ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق وفاقی کابینہ نے وزیرِاعظم کے 20 ستمبر 2021ء کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے ٹی ٹی ایس پے پیکیج 2026ء کی منظوری دی، جس کے تحت پروفیسر، ایسوسی ایٹ پروفیسر اور اسسٹنٹ پروفیسر کے تنخواہی سکیلز پر نظرثانی کی گئی ہے۔
نظرثانی شدہ پیکیج کے مطابق ٹی ٹی ایس پروفیسر کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 3 لاکھ 94 ہزار 875 روپے سے بڑھا کر 4 لاکھ 7 ہزار 230 روپے کر دی گئی ہے، جبکہ سالانہ اضافہ 19 ہزار 305 روپے کے بجائے 20 ہزار 320 روپے ہوگا۔
اسی طرح زیادہ سے زیادہ تنخواہ 6 لاکھ 84 ہزار 450 روپے سے بڑھا کر 7 لاکھ 12 ہزار 30 روپے مقرر کی گئی ہے۔
ایسوسی ایٹ پروفیسر کی کم از کم تنخواہ 2 لاکھ 63 ہزار 250 روپے سے بڑھا کر 3 لاکھ 70 ہزار 810 روپے کر دی گئی ہے، جبکہ سالانہ اضافہ 15 ہزار 356 روپے سے بڑھا کر 18 ہزار 320 روپے مقرر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : موٹرویز اور قومی شاہراہوں پر ٹول ٹیکس میں اضافہ، نئے نرخ نافذ
اس کے علاوہ زیادہ سے زیادہ تنخواہ 4 لاکھ 93 ہزار 590 روپے سے بڑھا کر 6 لاکھ 45 ہزار 610 روپے کر دی گئی ہے۔
اسی طرح اسسٹنٹ پروفیسر کی کم از کم ماہانہ تنخواہ ایک لاکھ 75 ہزار 500 روپے سے بڑھا کر 2 لاکھ 88 ہزار 20 روپے مقرر کی گئی ہے۔
اس عہدے پر سالانہ اضافہ 12 ہزار 65 روپے کے بجائے 17 ہزار 720 روپے ہوگا، جبکہ زیادہ سے زیادہ تنخواہ 3 لاکھ 56 ہزار 475 روپے سے بڑھا کر 5 لاکھ 53 ہزار 820 روپے کر دی گئی ہے۔
وزارتِ خزانہ نے واضح کیا ہے کہ نظرثانی شدہ تنخواہوں کے باعث آنے والے اضافی مالی اخراجات متعلقہ جامعات اپنے وسائل سے پورے کریں گی، جبکہ وفاقی حکومت اس مقصد کے لیے کوئی اضافی مالی گرانٹ فراہم نہیں کرے گی۔





