اسلام آباد: مذہبی تصویر کشی سے متعلق کیس میں اسلامی نظریاتی کونسل کا خط پیمرا کی کونسل آف کمپلینٹس لاہور کو موصول ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنے خط میں ہدایت کی ہے کہ لائسنس یافتہ ٹی وی چینل سے متعلق کیس کو پیمرا کے مروجہ قواعد و ضوابط کے مطابق نمٹایا جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ متعلقہ چینل کے خلاف کسی بھی کارروائی کا حتمی فیصلہ پیمرا قوانین کے تحت کیا جائے گا، جبکہ معاملے کی کارروائی بھی مقررہ قانونی طریقہ کار کے مطابق آگے بڑھائی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں : وزیراعظم آزاد کشمیر نے جیو نیوز کی مہاجرین کی نشستوں سے متعلق خبر مسترد کر دی
ذرائع کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل نے معاملے کے مذہبی پہلو پر اپنی سابقہ جامع رہنمائی برقرار رکھتے ہوئے قانونی اور انتظامی فیصلے کا اختیار متعلقہ ریگولیٹری ادارے کو سونپ دیا ہے۔
کونسل نے اپنے آئینی اور مشاورتی کردار تک خود کو محدود رکھتے ہوئے پیمرا کے قانونی اختیار میں مداخلت نہیں کی، جسے ریاستی اداروں کے درمیان اختیارات اور مینڈیٹ کے باہمی احترام کی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کونسل نے کیس کو پیمرا کے قواعد و ضوابط کے مطابق نمٹانے کی ہدایت دے کر ریگولیٹری ادارے کی خودمختاری، قانونی اختیار اور احتسابی ذمہ داری کو تسلیم کیا ہے۔
ساتھ ہی یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ معاملے کا فیصلہ کسی فوری یا جذباتی ردعمل کے بجائے مکمل قانونی عمل، شواہد، سماعت اور متعلقہ ضوابط کی روشنی میں کیا جانا چاہیے۔
ذرائع کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل نے اس عمل کو مذہبی حساسیت سے متعلق معاملات میں ایک متوازن طریقہ قرار دیا ہے، جس کے تحت دینی رہنمائی کونسل فراہم کرے جبکہ لائسنس، ضابطہ اخلاق اور قانونی کارروائی سے متعلق فیصلہ متعلقہ ریگولیٹری ادارہ کرے، تاکہ ادارہ جاتی ہم آہنگی اور عوامی اعتماد برقرار رہے۔
یاد رہے کہ پیمرا کونسل آف کمپلینٹس لاہور نے جیو نیوز کی دس محرم الحرام کی نشریات میں مقدس ہستیوں کی تصویری عکاسی سے متعلق معاملہ مزید شرعی اور آئینی رہنمائی کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوایا تھا۔
یہ فیصلہ 30 جون کو ہونے والے اجلاس میں کیا گیا، جہاں طے پایا کہ پیمرا اتھارٹی کو حتمی سفارشات ارسال کرنے سے قبل اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے حاصل کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں : جیو نیوز حساس ڈاکومنٹری معاملہ، پیمرا نے اسلامی نظریاتی کونسل سے رجوع کر لیا
کونسل نے اسلامی نظریاتی کونسل سے ایک ہفتے کے اندر رائے طلب کرتے ہوئے استفسار کیا تھا کہ آیا جیو نیوز کے لائسنس کی معطلی، ادارے کی جانب سے پیش کی گئی عوامی معذرت اور اب تک کیے گئے اقدامات اس معاملے میں کافی ہیں یا مزید کارروائی کی ضرورت ہے۔
اجلاس میں جیو نیوز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اپنے قانونی مشیروں کے ہمراہ پیش ہوئے تھے اور نشریات کی معطلی ختم کرنے کی درخواست بھی کی تھی۔
کونسل آف کمپلینٹس نے معاملے کو مذہبی جذبات سے متعلق انتہائی حساس قرار دیتے ہوئے آئین پاکستان کے آرٹیکل 19 اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اسلامی نظریاتی کونسل سے رہنمائی لینے کا فیصلہ کیا تھا۔





