سینئر صحافی عرفان خان نے خیبر پختونخوا میں دریائے سندھ اور دریائے کابل کے کناروں پر پلیسر گولڈ یعنی سونے کی تلاش کے ٹھیکوں میں ہونے والی اربوں روپے کی مبینہ بدعنوانی کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔
انہوں نے اپنے حالیہ وی لاگ میںدستاویزی ثبوتوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ صوبائی محکمہ معدنیات کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ کے واضح حکم امتناعی کے باوجود چار ارب 92 کروڑ روپے کے ٹھیکے غیر قانونی طور پر من پسند کمپنیوں کو دیے گئے۔ اس سنگین معاملے پر قومی احتساب بیورو (نیب) نے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جس کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ مذکورہ ٹھیکوں کی اصل مالیت سرکاری بولی سے کہیں زیادہ ہے اور اس پورے عمل میں مخصوص کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے اہم سیاسی شخصیات اور اعلیٰ بیوروکریٹس نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا ہے۔
اسکینڈل کی تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اور محکمہ معدنیات کی جانب سے دریائے سندھ اور دریائے کابل کے اطراف سونے کے ذخائر کی تلاش کے لیے ٹھیکے دیے جاتے ہیں، جس کے لیے 2012 سے 2015 کے دوران ایک جامع سروے کیا گیا تھا تاکہ ان مقامات کا تعین کیا جا سکے جہاں سونا پایا جاتا ہے۔ اس سروے کی روشنی میں حکومت نے سب سے زیادہ ذخائر والے علاقوں کی ایک سرکاری قیمت مقرر کی تھی، جس کے بعد بولی کا عمل شروع ہوا۔
عرفان خان کے مطابق اس نیلامی کے نتیجے میں دریائے سندھ کے بلاک اے صوابی کا ٹھیکہ ایک ارب 25 کروڑ روپے کے عوض ایم ایس گلو باکور میٹلز پرائیویٹ لمیٹڈ کو دیا گیا۔ اسی طرح صوابی ہی میں واقع بلاک بی کا ٹھیکہ ایک ارب 26 کروڑ 10 لاکھ روپے میں ایم ایس مچکو پرائیویٹ لمیٹڈ کے نام کیا گیا۔ نوشہرہ اور کوہاٹ کے اضلاع پر مشتمل بلاک سی کا ٹھیکہ ایک ارب 30 کروڑ 50 لاکھ روپے میں ایم ایس ہمالین ارتھ ایکسپلوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ کو دیا گیا، جبکہ ضلع کوہاٹ کی حدود میں آنے والے بلاک ڈی کا ٹھیکہ ایک ارب 11 کروڑ 10 لاکھ روپے میں ایم ایس شکردرہ منرلز پرائیویٹ لمیٹڈ کو الاٹ کیا گیا۔ ان چاروں بلاکس کے ٹھیکوں کی مجموعی مالیت چار ارب 92 کروڑ روپے بنتی ہے۔
سینئر صحافی کے مطابق ان ٹھیکوں کی الاٹمنٹ کے دوران قوانین کی شدید خلاف ورزیوں پر پشاور ہائی کورٹ نے تحفظات کے باعث حکم امتناعی جاری کیا تھا، تاہم اس اسٹے آرڈر کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے لائسنسنگ اتھارٹی نے 13 نومبر 2024 کو الاٹمنٹ لیٹر جاری کر دیے۔ نیب کی جانب سے جاری کردہ خطوط کے مطابق ان بلاکس کے معاہدے مقررہ مدت کے اندر سائن نہیں کیے گئے تھے، لیکن اس کے باوجود الاٹمنٹ لیٹر جاری کر کے لیز ہولڈرز کو کام کرنے کی غیر قانونی اجازت دی گئی، جس کے بعد ان علاقوں میں پندرہ سو سے زائد ایکسکیویٹرز غیر قانونی طور پر کام کرتے ہوئے پائے گئے۔ مزید برآں، کامیاب بولی دہندگان نے مائننگ کے قواعد کے مطابق ماحولیاتی اثرات کی رپورٹ اور مناسب مائننگ پلان بھی محکمہ میں جمع نہیں کرائے تھے۔
عرفان خان کے مطابق قومی احتساب بیورو نے اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے 17 جولائی 2025 کو محکمہ معدنیات سے تمام متعلقہ ریکارڈ اور تفصیلات طلب کی تھیں۔ نیب کی تحقیقات میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ بلاک اے کی ریزرو قیمتوں کے تخمینے کے دوران جیولوجیکل اسٹڈی 2015 اور منرل آکشن رولز 2022 کو کیوں نظر انداز کیا گیا اور فروری 2022 میں شروع کی جانے والی جیولوجیکل سروے اسٹڈی کو نومبر 2022 میں کس کے کہنے پر روکا گیا، جس کے باعث پلیسر گولڈ کے ذخائر کے درست تخمینے پر منفی اثر پڑا۔ تحقیقات میں یہ بات بھی زیر غور ہے کہ 2020، 2021 اور 2023 میں ہونے والی ماضی کی نیلامیاں کیوں ناکام رہیں اور ان کی تشہیر دانستہ طور پر غیر معیاری کیوں رکھی گئی۔
یہ بھی پڑھیں : حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں غیر قانونی بھرتیاں جاری، وزیر اعلیٰ کے دعوے سوشل میڈیا تک محدود ہیں، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن
سینئرصحافی کے مطابق نیب کی جانب سے اس کرپشن اسکینڈل میں ملوث وزرا اور بیوروکریٹس کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات اب حتمی مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں، جہاں ان تمام کرداروں کو بے نقاب کیا جا رہا ہے جنہوں نے رولز اور قوانین کو بالائے طاق رکھ کر قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا۔





