کالعدم بی ایل اے نے بی وائی سی کی لاپتہ فہرست میں شامل عطاء اللہ بلوچ کے خودکش حملہ آور ہونے کا اعتراف کر لیا

کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے عطاء اللہ بلوچ کو اپنا فدائی یعنی خودکش حملہ آور تسلیم کیے جانے کے بعد بلوچستان میں جاری ریاست مخالف پروپیگنڈا بری طرح زمین بوس ہو گیا ہے کیونکہ یہی عطاء اللہ بلوچ چند روز قبل تک بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی “جبری گمشدگیوں” کی فہرست میں ایک لاپتہ اور مظلوم شہری کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا۔

اس اہم پیش رفت نے بی وائی سی اور بی ایل اے کے مابین گہرے روابط اور مبینہ گٹھ جوڑ کو پوری طرح ننگا کر دیا ہے جس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ لاپتہ افراد کا نام نہاد نعرہ دراصل دہشت گردانہ سرگرمیوں پر پردہ ڈالنے اور عالمی سطح پر ہمدردیاں سمیٹنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال بی وائی سی، بی ایل اے اور بھارتی انٹیلیجنس ایجنسی ‘را’ (RAW) کے درمیان ایک منظم گٹھ جوڑ کی عکاسی کرتی ہے جس میں بی وائی سی ایک سیاسی اور میڈیا ونگ کے طور پر کام کر رہی ہے تاکہ “لاپتہ افراد” کے جھوٹے نعروں کی آڑ میں ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پھیلائی جائے اور اس جذباتیت کا فائدہ اٹھا کر معصوم نوجوانوں کو بی ایل اے کے دہشت گرد نیٹ ورک کے لیے بھرتی کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں : کوئٹہ: سریاب مل کے علاقے میں کالعدم بی ایل اے کا مدرسے پر دستی بم حملہ، 2 بچے شہید، ایک زخمی

دوسری جانب، کالعدم بی ایل اے اس گٹھ جوڑ کے عسکری بازو کے طور پر ان برین واشڈ نوجوانوں کو خودکش حملوں اور تخریب کاری کے لیے استعمال کرتا ہے جبکہ ان دونوں نیٹ ورکس کو مبینہ طور پر ـ”راـ”کی مالی اور تکنیکی پشت پناہی حاصل ہے تاکہ گوادر، چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اور بلوچستان کی مجموعی ترقی و خوشحالی کے عمل کو سبوتاژ کیا جا سکے۔

Scroll to Top