نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ حکومت ملک بھر میں چینی کی بلاتعطل فراہمی اور عام صارفین کو مناسب قیمت پر اس کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے، جبکہ مارکیٹ میں ذخیرہ اندوزی، مصنوعی مہنگائی اور ناجائز منافع خوری میں ملوث عناصر کے خلاف ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی کے تحت سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ہفتہ کے روز اسلام آباد میں ملک میں چینی کے اسٹاک، دستیابی اور قیمتوں کے استحکام کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ ملک کے تمام حصوں میں چینی کی مسلسل اور ہموار سپلائی کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائیں۔
اس موقع پر وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے صوبائی فوڈ محکموں کے تعاون سے اجلاس کے شرکا کو ملک میں چینی کے موجودہ ذخائر، پیداواری تخمینوں اور مارکیٹ میں قیمتوں کے موجودہ رجحانات کے حوالے سے مفصل بریفنگ دی۔ صورتحال کا تمام پہلوؤں سے تفصیلی جائزہ لینے کے بعد، اجلاس نے ملک میں چینی کی مجموعی دستیابی اور سپلائی چین کی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا۔
علاوہ ازیں، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقتصادی سفارت کاری کے فروغ کے حوالے سے ایک اہم بین الوزارتی اجلاس کی بھی صدارت کی۔ اس اجلاس میں پاکستان کی معیشت کے استحکام اور بیرونی سرمایہ کاری کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر کوششیں تیز کرنے سمیت عالمی معیار اور بین الاقوامی ذمہ داریوں پر مؤثر عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
اسحاق ڈار نے حکومت کے پائیدار معاشی ترقی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے تمام متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی کہ وہ معاشی مقاصد کے حصول کے لیے اپنی مشترکہ کوششوں کو مزید تیز کریں۔
یہ بھی پڑھیں : عوام پر مہنگائی کا ایک اور وار، آٹے کی قیمت 145 روپے کلو تک پہنچ گئی، شہریوں کی مشکلات میں اضافہ
ان اہم اجلاسوں میں وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی طارق باجوہ، سیکریٹری خارجہ، سیکریٹری کابینہ ڈویژن اور متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔





