مونال ریسٹورنٹ کیس میں بڑا قانونی موڑ آ گیا، وفاقی آئینی عدالت نے گرانے سے متعلق فیصلہ کالعدم قرار دے کر اہم احکامات جاری کر دیے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے پیر سوہاوہ میں واقع مونال ریسٹورنٹ گرانے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے سی ڈی اے اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے کیس کو دوبارہ قانونی طریقۂ کار کے مطابق آگے بڑھانے کی ہدایت کر دی۔
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں حکم امتناعی بھی ختم کر دیا، جبکہ ٹرائل کورٹس کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ مقدمات کا فیصلہ جلد از جلد کریں۔ عدالت نے واضح کیا کہ ملکیت سے متعلق معاملات کا فیصلہ ٹرائل کورٹس عدالتی آبزرویشنز سے متاثر ہوئے بغیر کریں گی، جبکہ انتظامی نوعیت کے معاملات متعلقہ ریگولیٹری ادارے طے کریں گے۔
سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں بعض اہم نکات کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کو جذبات کی بنیاد پر نہیں بلکہ قانون اور حقائق کی بنیاد پر فیصلہ کرنا ہے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے مزید ریمارکس دیے کہ فیصلے میں بعض ایسے نکات شامل کیے گئے جو عدالتی کارروائی کا حصہ نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت صرف وہی حکم جاری کرے گی جس کا تعلق زیرِ سماعت معاملے سے ہو۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیڈ لائن ختم ہوتے ہی کریک ڈاؤن تیز، چارسدہ میں غیر قانونی مقیم درجنوں افغان شہری گرفتار
دورانِ سماعت وکیل احسن بھون نے عدالت کی کارروائی کی تعریف کی، جس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ عدالت میں تعریفیں نہیں بلکہ قانونی نکات اہم ہوتے ہیں، فیصلہ صرف مقدمے کے حقائق اور قانون کے مطابق سنایا جائے گا۔
عدالت کے فیصلے کے بعد مونال ریسٹورنٹ کیس ایک بار پھر قانونی مراحل میں داخل ہو گیا ہے، جبکہ ملکیت اور دیگر انتظامی معاملات کا حتمی فیصلہ متعلقہ فورمز پر ہوگا۔





