مچھروں کے خاتمے کے لیے نئی ٹیکنالوجی سامنے آگئی

امریکی ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپ ٹورنایول نے ایک ایسی جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے کا دعویٰ کیا ہے جو مستقبل میں مچھروں کے خلاف جنگ کا انداز بدل سکتی ہے۔

کمپنی نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے لیس ایسے مائیکرو ڈرونز تیار کیے ہیں جو فضا میں اڑتے ہوئے مچھروں اور دیگر چھوٹے کیڑوں کا تعاقب کرکے انہیں نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

کمپنی کے مطابق یہ جدید ڈرونز مچھروں پر قابو پانے کا کم لاگت، مؤثر اور ماحول دوست حل ثابت ہو سکتے ہیں۔ وائی کومبینٹر کی معاونت سے کام کرنے والی کمپنی کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے مچھروں کے خاتمے کی لاگت موجودہ طریقوں کے مقابلے میں تقریباً سو گنا تک کم کی جا سکتی ہے، جبکہ کیمیائی اسپرے اور دیگر مہنگے یا ممکنہ طور پر نقصان دہ طریقوں پر انحصار بھی نمایاں حد تک گھٹ جائے گا۔

کمپنی کے شریک بانی الیکس توسان نے 14 جولائی کو ایک ویڈیو جاری کی، جس میں ایک مائیکرو ڈرون کو فضا میں ایک پتنگے کا تعاقب کرتے اور آزمائشی ماحول میں کامیابی سے اسے نشانہ بناتے ہوئے دکھایا گیا۔ اگرچہ یہ تجربہ مچھر کے بجائے پتنگے پر کیا گیا، تاہم کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ مچھروں کے خلاف اس ٹیکنالوجی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

ٹورنایول کے مطابق صرف 40 گرام وزنی یہ ڈرونز جدید مائیکروفونز، الٹراسونک سینسرز اور جدید سافٹ ویئر سے لیس ہوں گے۔ یہ الٹراسونک لہروں اور مچھروں کے پروں کی حرکت سے پیدا ہونے والی مخصوص ڈوپلر آواز کا تجزیہ کرکے انہیں دیگر اڑنے والے کیڑوں سے الگ شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

کمپنی کے انجینئرز کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایسے مائیکرو ڈرونز کے غول بڑے شہروں میں مچھروں کی آبادی پر مؤثر انداز میں قابو پانے کے لیے استعمال کیے جا سکیں گے۔ ان کے مطابق صرف 10 چھوٹے ڈرون ایک مربع کلومیٹر کے علاقے میں خون چوسنے والے مچھروں کی تعداد نمایاں حد تک کم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے، جس سے صحتِ عامہ کے شعبے میں بھی مثبت نتائج حاصل ہونے کی توقع ہے۔

Scroll to Top