اسپورٹس میڈیسن اور بحالیِ صحت کے ماہرین نے ایک انتہائی مفید اور آسان طبی مشق کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ روزانہ محض 10 منٹ تک زمین پر لیٹ کر اپنی ٹانگیں دیوار کے ساتھ اوپر سیدھی رکھنے سے پاؤں کی سوجن کم کرنے، دن بھر کی تھکن دور کرنے اور ذہنی سکون حاصل کرنے میں حیرت انگیز مدد مل سکتی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق یہ ایک باقاعدہ ورزش ہے جسے یوگا کی اصطلاح میں ’ویپریتا کرانی‘ کہا جاتا ہے، اور یہ جسم کے اندر خون اور رطوبتوں کی گردش کو بہتر بنانے کا ایک بہترین قدرتی ذریعہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں جو اپنے روزگار یا مصروفیات کی وجہ سے طویل وقت بیٹھ کر، کھڑے رہ کر یا سفر میں گزارتے ہیں۔
عام طور پر پاؤں میں سوجن کی بڑی وجوہات میں زیادہ دیر تک بیٹھنا یا کھڑے رہنا، گرم موسم، کھانے میں نمک کا زیادہ استعمال، حمل، طویل سفر اور جسم میں خون کا کمزور دوران شامل ہیں۔
اس تکلیف سے نجات پانے کا طریقہ نہایت آسان ہے جس کے تحت آپ کو بس دیوار کے قریب لیٹ کر اپنی کمر، کندھے اور سر زمین پر ٹکانے ہوتے ہیں اور ٹانگوں کو دیوار کے ساتھ اوپر کی طرف سیدھا کرنا ہوتا ہے۔
اس پوزیشن میں بازوؤں کو بالکل ڈھیلا چھوڑ کر گہری سانسیں لیتے ہوئے 5 سے 10 منٹ تک رہنا چاہیے۔ اس سادہ سی مشق کے نتیجے میں پاؤں اور ٹخنوں کی سوجن دور ہوتی ہے، بھاری پن ختم ہوتا ہے، ذہنی تناؤ اور بے چینی میں کمی آتی ہے، نیند کا معیار بہتر ہوتا ہے اور طویل سفر کی تھکاوٹ منٹوں میں غائب ہو جاتی ہے۔
یہ طریقہ دفاتر میں گھنٹوں بیٹھنے والے ملازمین، اساتذہ، طبی عملے، مسافروں، کھلاڑیوں اور عمر رسیدہ افراد کے لیے بے حد مفید ہے۔
ماہرین نے اس مشق کے حوالے سے کچھ ضروری احتیاطی تدابیر بھی بتائی ہیں، ایسے افراد جو شدید یا بے قابو ہائی بلڈ پریشر، آنکھوں کے پیچیدہ امراض، گردن یا کولہے کی سرجری، اور دل یا دورانِ خون کی سنگین بیماریوں میں مبتلا ہوں، وہ یہ مشق کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے لازمی مشورہ کریں۔
یہ بھی پڑھیں: صبح خالی پیٹ چائے پینے سے صحت کو نقصان کا خدشہ، ماہرین نے خبردار کر دیا
اس کے علاوہ، اگر پاؤں کی سوجن اچانک نمودار ہو، صرف ایک ٹانگ میں ہو، یا پھر درد، سرخی اور تپش کے ساتھ بڑھ رہی ہو اور ساتھ ہی سانس لینے میں دشواری یا سینے میں درد محسوس ہو، تو اسے معمولی نہ سمجھا جائے اور فوری طور پر طبی امداد حاصل کی جائے۔
ماہرین نے واضح کیا ہے کہ یہ طریقہ روزمرہ کے آرام اور صحت کو برقرار رکھنے کے لیے تو بہترین ہے لیکن یہ کسی مستقل سوجن یا سنگین بیماری کی صورت میں باقاعدہ طبی علاج کا متبادل ہرگز نہیں ہو سکتا۔





