نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور محکمہ موسمیات نے ملک کے بالائی حصوں میں مون سون کی شدید بارشوں کے پیشِ نظر ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے دریائے کابل، پنجکورہ، سوات اور چترال میں فلڈ وارننگ جاری کر دی ہے۔
حکام کے مطابق 19 سے 23 جولائی کے دوران ملک کے مختلف دریاؤں اور ندی نالوں میں شدید طغیانی سمیت کئی بڑے شہروں میں اربن فلڈنگ کا واضح خطرہ موجود ہے۔
رپورٹ کے مطابق 20 سے 23 جولائی تک گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور بالائی پنجاب میں موسلا دھار اور شدید بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے جس کے باعث ان علاقوں کے ندی نالوں اور پہاڑی ریلوں میں طغیانی آ سکتی ہے۔
اس دوران دریائے چناب میں مقامِ مارالہ اور دریائے جہلم میں مقامِ منگلا کے بالائی حصوں میں بڑے سیلابی ریلوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جبکہ دریائے کابل اور اس کے معاون دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافے کے پیشِ نظر نوشہرہ میں ہائی الرٹ نافذ کیے جانے کا امکان ہے۔
موسمیاتی صورتحال کے باعث خیبر پختونخوا کے اضلاع مالاکنڈ، شانگلہ، کوہستان، مانسہرہ اور ہری پور میں شدید بارشوں اور سیلاب کا خطرہ برقرار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا میں شدید بارشوں کا الرٹ، لینڈ سلائیڈنگ اور فلیش فلڈ کا خدشہ
اس کے علاوہ دیر، سوات، کوہستان، مانسہرہ، مردان اور ڈیرہ اسماعیل خان کے پہاڑی سلسلوں اور مقامی نالوں میں اچانک سیلابی ریلے آنے کا خدشہ ہے جبکہ آزاد کشمیر، وادیِ نیلم، جہلم اور پونچھ کے دریاؤں اور معاون نالوں میں بھی پانی کا بہاؤ تیز رہے گا۔
شدید اور موسلا دھار بارشوں کے نتیجے میں راولپنڈی، اسلام آباد، پشاور، لاہور، گوجرانوالہ، گجرات اور شیخوپورہ جیسے بڑے شہروں کے نشیبی علاقوں میں شہری سیلاب یعنی اربن فلڈنگ کا شدید خطرہ ہے۔
این ڈی ایم اے نے تمام صوبائی و مقامی انتظامی اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے اور عوام و سیاحوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ دریاؤں کے نزدیک جانے اور غیر ضروری سفر سے مکمل گریز کریں۔





