90 سے زائد ممالک کے طلبہ کے درمیان مقابلہ، پاکستانی طالب علم نے عالمی بائیولوجی اولمپیاڈ میں بڑا اعزاز جیت لیا

90 سے زائد ممالک کے طلبہ کے درمیان مقابلہ، پاکستانی طالب علم نے عالمی بائیولوجی اولمپیاڈ میں بڑا اعزاز جیت لیا

پاکستان نے عالمی سطح پر سائنس کے میدان میں ایک اور اہم کامیابی حاصل کر لی، جہاں قومی ٹیم نے 37ویں انٹرنیشنل بائیولوجی اولمپیاڈ (IBO 2026) میں سلور میڈل اور میرٹ سرٹیفکیٹ جیت کر ملک کا نام روشن کر دیا۔

انٹرنیشنل بائیولوجی اولمپیاڈ 2026 کا انعقاد 12 سے 19 جولائی تک لتھوانیا کے دارالحکومت ولنیئس میں ہوا، جس میں دنیا کے 90 سے زائد ممالک کے 350 سے زیادہ بہترین طلبہ نے شرکت کی۔ یہ مقابلہ دنیا بھر میں ہائی اسکول طلبہ کے لیے حیاتیاتی علوم کا ایک انتہائی معتبر عالمی مقابلہ سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان کی جانب سے انٹرنیشنل اسکول لاہور (لیگیسی کیمپس) کے طالب علم حسن عاطف چیمہ نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سلور میڈل حاصل کیا، جبکہ کراچی گرامر اسکول کراچی کے طالب علم محمد مطاہر نے میرٹ سرٹیفکیٹ اپنے نام کیا۔

پاکستانی ٹیم کے طلبہ کا انتخاب STEM Careers Programme کے تحت کیا گیا، جو ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز (PIEAS) کا مشترکہ منصوبہ ہے۔ طلبہ کو 22ویں نیشنل سائنس ٹیلنٹ کانٹیسٹ (NSTC) کے ذریعے منتخب کیا گیا، جس کے بعد انہیں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ (NIBGE) میں خصوصی تربیت فراہم کی گئی۔

تربیتی پروگرام کے دوران طلبہ کو مقامی اور بین الاقوامی ماہرین نے جدید سائنسی علوم اور مقابلے کی تیاری کے حوالے سے تربیت دی۔ قومی ٹیم کی قیادت پروفیسر ڈاکٹر اسماء عمران اور ڈاکٹر عامر علی نے کی، جنہوں نے طلبہ کی تیاری اور مقابلے کے دوران رہنمائی کی۔

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC) اور PIEAS کی جانب سے سائنس، تحقیق اور انسانی وسائل کی ترقی کے لیے جاری اقدامات کے تحت نوجوان سائنسی صلاحیتوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان 2001 سے انٹرنیشنل فزکس اولمپیاڈ، 2005 سے انٹرنیشنل میتھمیٹکس اولمپیاڈ جبکہ 2006 سے انٹرنیشنل بائیولوجی اور کیمسٹری اولمپیاڈ میں شرکت کر رہا ہے۔ STEM Careers Programme کے آغاز سے اب تک 365 سے زائد پاکستانی طلبہ عالمی سائنس اولمپیاڈز میں ملک کی نمائندگی کر چکے ہیں، جنہوں نے مجموعی طور پر 144 بین الاقوامی تمغے حاصل کیے ہیں۔

حکام کے مطابق سائنس اور تحقیق کے شعبے میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کا یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رکھا جائے گا تاکہ پاکستان کے لیے مزید ماہر سائنسدان، محققین اور جدت کار تیار کیے جا سکیں۔

Scroll to Top