کفایت شعاری کا راگ الاپنے والی خیبرپختونخواحکومت کی کابینہ 50سے تجاوز کر گئی،سینئر صحافی عرفان خان

کفایت شعاری کا راگ الاپنے والی خیبرپختونخواحکومت کی کابینہ 50سے تجاوز کر گئی،سینئر صحافی عرفان خان

معروف صحافی اور تجزیہ کار عرفان خان نے اپنے حالیہ وی لاگ میں خیبر پختونخوا حکومت کی کارکردگی، کابینہ کی غیر معمولی توسیع اور پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی قیادت کے اندرونی اختلافات سمیت کئی حقائق بے نقاب کر دیے ہیں۔

عرفان خان کا کہنا ہے کہ ایک طرف کے پی حکومت عوام اور کارکنوں کے سامنے شدید مالی بحران اور کفایت شعاری کی پالیسی کے دعوے کر رہی ہے تو دوسری جانب شاہ خرچیوں اور سیاسی نوازشات کا سلسلہ بلا خوف و خطر جاری ہے۔

صحافی عرفان خان نے انکشاف کیا کہ 21 جولائی کو حکومتِ خیبر پختونخوا کی جانب سے جاری کردہ ایک تازہ اعلامیے کے تحت 23 نئے پارلیمانی سیکرٹریز کی بڑی فوج تعینات کر دی گئی ہے۔ اس نئے اضافے کے بعد صوبائی کابینہ کی مجموعی تعداد 53 کی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے جس میں وزیر اعلیٰ اور وزراء کی تعداد 16، مشیران کی تعداد 6، معاونین خصوصی کی تعداد 8 اور 23 نئے پارلیمانی سیکرٹریز شامل ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا عمران خان کے وژن اور منشور کا مقصد کابینہ کا یہ غیر معمولی حجم بڑھانا تھا یا پھر یہ موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کے گرد موجود مخصوص حلقے کا ذاتی اور سیاسی ایجنڈا ہے۔

وی لاگ میں صحافی عرفان خان نے گزشتہ روز کے پی اسمبلی کے اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو اس وقت خود اپنی ہی پارٹی کے اندر سے شدید سیاسی مزاحمت اور سخت ترین اپوزیشن کا سامنا ہے۔ اسمبلی کے اہم اجلاس میں پی ٹی آئی کے چار نمایاں ارکانِ اسمبلی عثمان بیٹنی، ہنگو سے منتخب شاہ تراب خان، بنوں سے منتخب پختون یار اور ایبٹ آباد سے منتخب سابق سپیکر مشتاق احمد غنی نے کھلم کھلا فلور پر اپنی ہی حکومت کے خلاف محاذ کھول دیا۔ ان اراکین نے حکومتی اداروں اور محکموں میں ہونے والی کرپشن کا معاملہ اٹھایا اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

عرفان خان نے مزید بتایا کہ اسمبلی کے فلور پر اراکین نے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے چلائی جانے والی تحریک کے حوالے سے بھی سنگین سوالات اٹھائے۔ اراکینِ اسمبلی کا کہنا تھا کہ رہائی تحریک کے نام پر کارکنوں کو مسلسل گمراہ کیا جا رہا ہے اور عملی طور پر نہ کوئی سنجیدہ میٹنگ بلائی جا رہی ہے اور نہ ہی تحریک کا کوئی لائحہ عمل سامنے لایا جا رہا ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ جب ان اراکین نے صوبائی اداروں میں کرپشن پر شفاف تحقیقات مانگیں، تو بعض صوبائی وزراء تحقیقات کا سن کر خود ہی ان کے دفاع میں آ گئے اور تحقیقات کی سخت مخالفت شروع کر دی۔

عرفان خان نے پارٹی کے اندرونی ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت اور کابینہ کے بعض وزراء اس وقت شدید سیاسی خوف اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ انہیں ڈر ہے کہ پارٹی کے اندر بننے والے دھڑے اور بڑھتی ہوئی گروپ بندی کہیں ان کے اقتدار اور وزارتی کرسیوں کو نگل نہ جائے۔

یہ بھی پڑھیں : سینکڑوں طالبات، ایک ٹیچر، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے ضلع خیبر میں سرکاری سکول بدحالی کا شکار،طالبات کا مستقبل داؤ پر

صحافی کے مطابق 23 پارلیمانی سیکرٹریز کی اچانک تعیناتی اور عہدوں کی یہ بندر بانٹ دراصل اراکین اور کارکنوں کو سیاسی مراعات دے کر خوش کرنے کی ایک کوشش ہےتاکہ وزیراعلیٰ یا ان کے قریبی وزراء کے خلاف پارٹی کے اندر سے اٹھنے والی کسی بھی موثر آواز یا منظم گروپ کو ابتدائی سطح پر ہی دبا کر کمزور یا ختم کیا جا سکے۔

Scroll to Top