ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ایران یا اس کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف کسی بھی قسم کے حملے کا جواب ضرور دیا جائے گا۔
Our defense doctrine is clear: eye for an eye.
Any aggression against Iran, including our infrastructure, will compel a powerful and decisive response.
Those who contribute to such aggression, whatever the kind of support, will also be considered as legitimate targets.
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) July 22, 2026
انہوں نے واضح کیا کہ جارحیت میں معاونت کرنے والے تمام فریق بھی ایران کی نظر میں جائز ہدف تصور کیے جائیں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اپنی سرزمین پر ہونے والے کسی بھی حملے کو برداشت نہیں کرے گا اور اس کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت بیان دیتے ہوئے امریکی فوج کو کارروائی کے احکامات دینے کا دعویٰ کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے تین روز قبل سینٹکام کو حکم جاری کیا، جسے انہوں نے دوبارہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کیا۔
یہ بھی پڑھیں : بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے بعد چناب میں طغیانی کا خدشہ
امریکی صدر نے دھمکی دی تھی کہ ایران کو اس کی کارروائیوں کی بڑی قیمت ادا کرنا پڑے گی اور حملے جاری رہیں گے۔
دوسری جانب ایرانی خبر ایجنسی تسنیم سے گفتگو کرتے ہوئے ایک ایرانی فوجی عہدیدار نے کہا کہ اگر امریکا ایران کے بنیادی ڈھانچے، پلوں یا بجلی گھروں کو نشانہ بناتا ہے تو ایران بھی خطے میں موجود ان بنیادی تنصیبات کو ہدف بنا سکتا ہے جہاں امریکی مفادات موجود ہیں۔





