وٹامن ڈی کو ہڈیوں کی مضبوطی، قوتِ مدافعت اور جسم کے متعدد اہم افعال کے لیے ضروری قرار دیا جاتا ہے، تاہم نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ صرف سورج کی روشنی پر انحصار کرکے وٹامن ڈی کی کمی پوری نہیں کی جا سکتی۔
یورپین جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ہونے والی تحقیق میں سورج کی روشنی اور جسم میں وٹامن ڈی کی سطح کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔ اس تحقیق میں 299 معمر افراد کو شامل کیا گیا، جن میں سے بیشتر وٹامن ڈی کی کمی کا شکار تھے۔
محققین نے موسم گرما کے دوران شرکاء کو زیادہ وقت تک سورج کی روشنی میں رکھا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس سے جسم میں وٹامن ڈی کی سطح میں کتنا اضافہ ہوتا ہے۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق سورج کی روشنی سے وٹامن ڈی کی سطح میں نمایاں اضافہ نہیں ہوا، جس کے بعد محققین نے کہا کہ اگر کوئی شخص وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہو تو صرف دھوپ پر انحصار کرنا مؤثر حکمتِ عملی نہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وٹامن ڈی کی کمی دور کرنے کے لیے وٹامن ڈی سے بھرپور غذاؤں اور سپلیمنٹس کا استعمال زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ملک میں مزید بارشوں کی پیش گوئی، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا
ان کے مطابق زیادہ تر بالغ افراد کو روزانہ 1500 سے 2000 انٹرنیشنل یونٹس وٹامن ڈی کی ضرورت ہوتی ہے، جو مچھلی، فورٹیفائیڈ ڈیری مصنوعات اور سپلیمنٹس سے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق وٹامن ڈی ہڈیوں کی صحت، قوتِ مدافعت اور جسم کے دیگر اہم افعال کے لیے ناگزیر ہے۔ یہ ممکنہ طور پر کینسر سمیت متعدد دائمی بیماریوں جیسے ہڈیوں کی کمزوری، ڈپریشن، ٹائپ ٹو ذیابیطس اور امراضِ قلب سے تحفظ میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً ایک ارب افراد وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہیں۔





