نئی دہلی: مقبوضہ جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ اور پیپلز ڈیموٹکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی سربراہ محبوبہ مفتی نےکہا ہے کہ 1947ء کے بعد سے اب تک کا سب سے بڑا امتحان جاری ہے اور خوش آئند بات یہ ہے کہ اس جدوجہد میں اب ملک کے نوجوان شامل ہو چکے ہیں۔
نئی دہلی کے مشہور تاریخی مقام جنتر منتر پر منعقدہ دھرنے میں شرکت کی اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے حکومت کی پالیسیوں اور بے حسی پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 12 سال سے ملک کو تقسیم ہوتا اور کٹتا ہوا دیکھا جا رہا ہے، جہاں پیپر لیکج، چندا چوری اور خواتین پر مظالم بڑھ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج ملک میں معصوم بچیوں کی نسبت گائے زیادہ محفوظ ہے۔
محبوبہ مفتی نے دھرنے میں موجود نوجوانوں کے جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ اتنی شدید گرمی، بھوک اور پیاس کے باوجود نوجوان سڑکوں پر ڈٹے ہوئے ہیں، جبکہ پولیس اور انتظامیہ کے تشدد سے ان کے کپڑے خون سے لال کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے عدلیہ پر بھی افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اتنے اہم عوامی اور آئینی مسائل پر نیائے پالیکا کے پاس وقت نہیں ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر نوجوان آج اس بربریت اور ناانصافی کے خلاف کھڑے نہ ہوئے تو حالات 1947ء سے پہلے سے بھی بدتر ہو جائیں گے۔ محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ اگر آئین نہ بچا تو جس طرح مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق سلب کر کے اسے ایک کھلی جیل میں تبدیل کیا گیا ہے، اسی طرح یہ لوگ پورے ملک کو کھلی جیل بنا دیں گے۔
صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سب سے بڑی طاقت نوجوانوں کی ہے اور یہی نوجوان اس اقتدار اور حکومت کو جھکائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں : بھارت نسل کشی کے دہانے پر کھڑا ہے، سابق امریکی صدر بارک اوباما نے مودی کا چہرہ بے نقاب کر دیا
انہوں نے کہا کہ حکمرانوں میں اتنا تکبر اور گھمنڈ ہے کہ شدید گرمی میں مظاہرہ کرنے والے بچوں کی پروا کیے بغیر ایک منسٹر تک کو فارغ نہیں کیا جا رہا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ غرور اور تکبر زیادہ دیر نہیں چلے گا اور عوام کا یہ سمندر اسے چور چور کر دے گا۔





