ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر پاکستان کا شدید ردعمل، کابل حملہ سے متعلق الزامات یکسر مسترد

پاکستان نے افغانستان کے مرکزی شہرکابل میں سویلین ہلاکتوں کے حوالے سے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ 16 مارچ 2026 کو کیے گئے ہدف شدہ حملے مصدقہ انٹیلیجنس کی بنیاد پر کیے گئے تھے جن میں کیمپ فینکس کے اندر موجود ایک ملٹری ڈرون ورکشاپ اور ہتھیاروں کے ذخیرے کو نشانہ بنایا گیا تھاجبکہ ایمنسٹی کی رپورٹ محض طالبان رجیم کے دعووں اور یکطرفہ بیانیے پر مبنی ہے۔

پاکستانی سیکیورٹی حکام اور ماہرین نے ایمنسٹی کے نتائج کو بے بنیاد اور ناکافی ثبوتوں پر مبنی قرار دے کر رد کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 2 ہزار بستروں کے اتنے بڑے ہسپتال میں جہاں ہزاروں مریض، ڈاکٹرز اور عملہ موجود ہو، اس سطح کے حملے کے بعد سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ پر ہزاروں کی تعداد میں ویڈیوز اور چشم دید گواہ سامنے آنے چاہیے تھے لیکن واقعے کے چار ماہ بعد بھی اس نوعیت کے تصویری يا بصری شواہد کا نہ ہونا رپورٹ کی صداقت پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔

پاکستان نے رپورٹ تیار کرنے کے طریقہ کار اور غیر جانبدارانہ رسائی پر بھی شدید اعتراضات اٹھائے ہیں۔ حکام کا اشارہ ہے کہ افغانستان میں طالبان کی جانب سے بین الاقوامی مبصرین کی آمد پر پابندیاں عائد ہیں ایسے میں ایمنسٹی کی جانب سے صرف چند تصاویر، محدود ویڈیوز اور محض 11 عملے کے ارکان کے انٹرویوز کی بنیاد پر حتمی نتیجہ اخذ کرنا صحافتی اور تحقیقاتی اصولوں کے منافی ہے۔

اس کے علاوہ پاکستانی حکام نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے جنوبی ایشیا دفتر کے ڈھانچے اور اس کے ملازمین پر ممکنہ تعصب کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : کابل حملے میں سویلینز کی ہلاکتوں کا پروپیگنڈا جھوٹ ہے ،ڈی جی آئی ایس پی آر

پاکستان کا کہنا ہے کہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں جاری کی گئی ہے جب ایمنسٹی افغان سر زمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی سرحدی دہشت گردی پر مسلسل خاموش ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ رپورٹ سیاسی مقاصد کے تحت اور پاکستان کے سیکیورٹی تحفظات کو نظر انداز کر کے تیار کی گئی ہے۔

Scroll to Top