مون سون بارشوں نے تباہی مچا دی، ملک بھر میں اموات کی تعداد 107 تک پہنچ گئی، مزید بارشوں کی پیشگوئی

اسلام آباد: ملک بھر میں جاری مون سون بارشوں کے باعث اموات کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق 26 جون سے اب تک ملک بھر میں بارشوں کے مختلف واقعات میں 107 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

این ڈی ایم اے کی تازہ صورتحال رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب میں مزید 7 جبکہ خیبرپختونخوا میں 3 اموات رپورٹ ہوئیں۔ پنجاب کے اضلاع گوجرانوالہ اور اوکاڑہ میں دو، دو افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ سرگودھا، نارووال اور سیالکوٹ میں ایک، ایک ہلاکت ریکارڈ کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں : آسمان پر بادلوں کا راج!آج کن کن شہروں میں بادل برسیں گے؟محکمہ موسمیات کی بڑی پیشگوئی سامنے آگئی

خیبرپختونخوا میں ہنگو میں 2 اور شانگلہ میں ایک شخص جان کی بازی ہار گیا۔ این ڈی ایم اے کے مطابق حالیہ اموات کی وجوہات میں مکانات کا گرنا، کرنٹ لگنا اور پانی میں ڈوبنے کے واقعات شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب کے مختلف علاقوں میں 47 افراد زخمی ہوئے، جبکہ خیبرپختونخوا کے ضلع ہنگو میں 3 افراد زخمی ہوئے۔

خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ اموات ریکارڈ

این ڈی ایم اے کے اعداد و شمار کے مطابق 26 جون سے اب تک سب سے زیادہ 55 اموات خیبرپختونخوا میں ہوئیں، جبکہ پنجاب میں 36، آزاد کشمیر میں 7، بلوچستان میں 6، سندھ میں 2 اور گلگت بلتستان میں ایک شخص جاں بحق ہوا۔

29 جولائی سے نئی بارشوں کی لہر کا امکان

محکمہ موسمیات کے مطابق 29 جولائی سے ملک کے بالائی علاقوں میں نئی برساتی لہر داخل ہونے کا امکان ہے، جس کے باعث اسلام آباد، بالائی پنجاب، خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ 28 جولائی تک سیلابی نوعیت کی بارشوں کا کوئی امکان نہیں، تاہم بالائی علاقوں، دریاؤں کے کیچمنٹ ایریاز اور مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش، تیز ہواؤں اور جھکڑ کا امکان برقرار ہے۔

دریاؤں کی صورتحال، راوی میں درمیانے درجے کا سیلاب

فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق ملک کے بیشتر بڑے دریا معمول سے کم سیلابی سطح پر بہہ رہے ہیں، تاہم دریائے راوی میں سدھنائی ہیڈ ورکس کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور خشک رہنے کا امکان

رپورٹ کے مطابق بلوکی کے مقام پر دریائے راوی میں کم درجے کا سیلاب ہے، جبکہ دریائے چناب کے مختلف مقامات پر بھی کم درجے کی سیلابی صورتحال موجود ہے۔ محکمہ موسمیات نے دریائے چناب اور راوی کو ہائی رسک کی سطح پر رکھا ہے۔

پنجاب حکومت کی شہریوں سے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی اپیل

پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق صوبے کے مختلف دریاؤں اور نالوں میں بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہوئی ہے، تاہم گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پانی کے بہاؤ میں استحکام دیکھا گیا ہے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق نارووال کے بسنتر نالے میں درمیانے درجے کا سیلاب جبکہ وزیرآباد کے پھالکو نالے میں 5 ہزار کیوسک پانی کے بہاؤ کے ساتھ اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پی ڈی ایم اے نے خیبرپختونخوا میں مون سون بارشوں اور فلش فلڈ سے نقصانات کی رپورٹ جاری کردی

ڈی جی پی ڈی ایم اے نے متاثرہ علاقوں کے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیلاب ریلیف کیمپوں میں بنیادی سہولیات اور ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔

کئی علاقوں میں شدید بارش ریکارڈ

پی ڈی ایم اے کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران نورپور تھل میں 115 ملی میٹر، گوجرانوالہ میں 107 ملی میٹر، گجرات میں 94 ملی میٹر، نارووال میں 68 ملی میٹر، منڈی بہاؤالدین میں 65 ملی میٹر اور سیالکوٹ ایئرپورٹ پر 52 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

لاہور میں 37 ملی میٹر، منگلا میں 37 ملی میٹر، جہلم میں 32 ملی میٹر، شیخوپورہ میں 28 ملی میٹر جبکہ حافظ آباد اور قصور میں 27، 27 ملی میٹر بارش ہوئی۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق گزشتہ 5 دنوں کے دوران لاہور میں مجموعی طور پر 450 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی جا چکی ہے۔

حکام نے نشیبی علاقوں میں سیلاب، دریاؤں اور نہروں میں پانی کی سطح بلند ہونے جبکہ پہاڑی علاقوں خصوصاً مری میں لینڈ سلائیڈنگ کے خدشے سے خبردار کرتے ہوئے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

Scroll to Top