وزیرستان: چلغوزے کے جنگلات خوارج کی پناہ گاہیں بن گئے، حکومت کا فصل چننے پر پابندی پر غور

حکومت نے شمالی و جنوبی وزیرستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں اور سہولت کاری کے بڑھتے ہوئے خدشات کے پیش نظر رواں سال چلغوزے کی فصل چننے اور اٹھانے پر مکمل پابندی عائد کرنے پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے۔

 ذرائع کے مطابق حال ہی میں سیکیورٹی فورسز نے اعلیٰ حکمت عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بارودی گاڑیوں کے 10 میں سے 8 حملے ناکام بنائے، جس سے ممکنہ بڑا جانی نقصان ٹل گیا۔ تاہم تحقیقات میں یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ خوارج نے مقامی سہولت کاروں کی مدد سے چلغوزے کے گھنے باغات اور جنگلات کی اوٹ لے کر یہ بارودی گاڑیاں تیار کی تھیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز ہر سال مقامی آبادی کی معیشت کی خاطر انہیں محفوظ ماحول میں چلغوزے کی فصل اٹھانے میں معاونت فراہم کرتی ہیں لیکن اس کے باوجود کچھ مقامی عناصر خوارج کو پناہ گاہیں فراہم کرنے، بارودی مواد اور آئی ای ڈیز (IEDs) نصب کرنے میں ان کے سہولت کار بن رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : چھوٹے دکانداروں کے لیے خصوصی ٹیکس طریقہ کار کا نوٹیفکیشن جاری

حکومتی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ دوہری روش اب مزید قابلِ قبول نہیں۔ رواں سال چلغوزے کی فصل اٹھانے کی اجازت اسی صورت دی جائے گی جب مقامی آبادی خوارج سے مکمل لا تعلقی اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کی پختہ یقین دہانی کرائے گی، بصورتِ دیگر سیکیورٹی خدشات کے تحت سخت اور ناگزیر فیصلے کیے جائیں گے۔

Scroll to Top