مہنگائی اور بجلی کے بلوں پر ایمل ولی خان برہم، عوام کو فوری ریلیف دینے کا مطالبہ

اسلام آباد: عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی صدر اور سینیٹر ایمل ولی خان نے ملک میں بڑھتی مہنگائی، بجلی کے بھاری بلوں اور عوامی مشکلات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کر دیا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ پاکستان میں 50 فیصد سے زائد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، جبکہ مہنگائی اور بجلی کے بڑھتے اخراجات نے عام شہری کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک پنکھے اور چند بلب استعمال کرنے والے غریب شہری کے لیے بھی بجلی کا بل ادا کرنا مشکل ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی ہر پالیسی کا بوجھ بالآخر عام آدمی کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جو پہلے ہی مہنگائی اور غربت کے باعث پریشان ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سی ایم ہاؤس کے پروٹوکول آفیسر کی گاڑی پر کسٹمز اور محکمہ ایکسائز آمنے سامنے

اے این پی سربراہ نے مطالبہ کیا کہ بجلی کے بلوں میں شامل غیر ضروری ٹیکسز فوری طور پر ختم کیے جائیں تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

ایمل ولی خان نے کہا کہ شدید گرمی کے دوران غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور بجلی کی بار بار ٹرپنگ نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ بجلی کے نظام کی خرابی کے باعث لوگوں کا قیمتی برقی سامان بھی متاثر ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام اس وقت مہنگائی، ٹیکسوں اور بجلی کے بحران کے دوہرے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، اس لیے حکومت کو بجلی کے نظام میں فوری اصلاحات کرتے ہوئے عوام کو عملی ریلیف دینا ہوگا۔

ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ بجلی کے مسائل اور مہنگائی کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو عام شہری کی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔

Scroll to Top