پشاور: عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبہ بدامنی کا شکار ہے اور عوام دہشت گردی کے خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔
اپنے جاری بیان میں ایمل ولی خان نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران خیبرپختونخوا میں مختلف دہشت گرد حملے ہوئے، جن میں عام شہریوں اور پولیس اہلکاروں کی جانیں گئیں، تاہم حکمرانوں کی جانب سے صرف مذمتی بیانات سامنے آ رہے ہیں اور کوئی مؤثر حکمت عملی نظر نہیں آتی۔
انہوں نے سوات، ہنگو، پشاور کے علاقے متنی میں پولیس پر حملوں اور وزیرستان میں مسجد پر مبینہ کواڈ کاپٹر حملے کی مذمت کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔
اے این پی سربراہ نے کہا کہ مسلسل پیش آنے والے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ریاست اپنی رٹ قائم کرنے میں ناکام ہو رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکمرانوں کی ذمہ داری صرف مذمت کرنا نہیں بلکہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا ہنگو کا دورہ، پولیس شہداء کے لواحقین سے تعزیت اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی
ایمل ولی خان نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت اپنی سیاسی سرگرمیوں جبکہ وفاقی حکومت دیگر سیاسی معاملات میں مصروف ہے، جس کے باعث خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے عوام بدامنی کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف واضح ریاستی پالیسی کے فقدان اور حکومتی کمزوریوں نے دہشت گرد عناصر کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع دیا۔ اگر ریاست نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کیں تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کا دہشت گردی کے خلاف مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے اور پارٹی امن، جمہوریت اور پختون وطن کے دفاع کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔





