اسلام آباد: تحریک انصاف کے ممکنہ احتجاج اور حالیہ بیانات کے تناظر میں حکومت کے اقدامات پر سیاسی ردعمل سامنے آگیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ عوام کو مبینہ طور پر اشتعال دلانے اور بدامنی کی طرف لے جانے والے عناصر کے خلاف بروقت کارروائی ریاستی رٹ برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
بیان کے مطابق تحریک انصاف کے بعض رہنماؤں کی جانب سے گزشتہ چند روز کے دوران دیے گئے بیانات میں عوام کو احتجاج اور مزاحمت پر اکسانے کی کوشش کی گئی، جس کے پیش نظر متعلقہ عناصر کے خلاف کارروائی کو بروقت اور مناسب قدم قرار دیا گیا ہے۔
مزید سڑکیں بند کی تو تربیلا ڈیم اور ورسک ڈیم کی سپلائی بند کر دیں گے۔
ایم این اے اقبال آفریدی— Iqbal Afridi PTI (@IqbalAfridiPTI) September 19, 2026
بیان میں سہیل آفریدی، جنید اکبر، علیمہ خان اور سلمان اکرم راجہ کے حالیہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ان میں اشتعال انگیزی کا عنصر نمایاں ہے۔ مؤقف میں کہا گیا کہ کسی بھی ریاست میں کھلم کھلا تشدد یا بدامنی کی ترغیب دینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
بیان میں کہا گیا کہ ماضی کے 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات سے سبق سیکھتے ہوئے ریاستی اداروں کی جانب سے پیشگی اقدامات کا مقصد کسی ممکنہ جانی یا مالی نقصان سے بچاؤ ہونا چاہیے۔
مزید کہا گیا کہ احتجاج اور آزادی اظہار کے آئینی حق کے باوجود کسی گروہ کو ریاستی یا عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
یہ بھی پڑھیں : 27 ستمبر کے لانگ مارچ سے بچنے کا نیا منصوبہ، سہیل آفریدی فرمائشی گرفتاری کے لیے لاہور پہنچ گئے
دوسرے بیان میں تحریک انصاف کی قیادت پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا گیا کہ بعض رہنماؤں کی جانب سے دھمکی آمیز زبان استعمال کی جا رہی ہے اور عوام کو اشتعال دلایا جا رہا ہے۔
رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی کے بیان میں پانی بند کرنے سے متعلق مبینہ دھمکیوں پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا گیا کہ ایسے اقدامات سے عام شہری متاثر ہوں گے۔
مزید الزام عائد کیا گیا کہ تحریک انصاف کی احتجاجی سیاست کے باعث ماضی میں سڑکوں کی بندش اور دھرنوں سے عام شہریوں کے کاروبار اور روزگار کو نقصان پہنچا۔
بیان میں ریاستی تنصیبات کو نقصان پہنچانے اور پانی کی فراہمی متاثر کرنے کی مبینہ دھمکیوں کو سنگین قرار دیتے ہوئے تحریک انصاف کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ سیاسی اختلاف اور احتجاج کا حق اپنی جگہ، تاہم ریاستی رٹ، عوام کے جان و مال اور قومی املاک کے تحفظ کے لیے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اقدامات ضروری ہیں۔





