خیبر پختونخوا میں افغان مہاجر کیمپوں کی زمینوں کا ریکارڈ غائب، معاوضوں کی ادائیگی متاثر

پشاور: خیبر پختونخوا میں افغان مہاجرین کے کیمپوں اور ریفیوجی ولیجز کے لیے حاصل کی گئی اراضی سے متعلق معاہدوں اور سرکاری ریکارڈ کی عدم دستیابی کے باعث زمین مالکان کو معاوضوں کی ادائیگی متاثر ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

کمشنر برائے افغان مہاجرین خیبر پختونخوا نے صوبائی حکومت کو مراسلہ ارسال کرتے ہوئے متعلقہ اراضی کے معاہدے، دستاویزات اور ریونیو ریکارڈ فوری طور پر فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔

مراسلے کے مطابق 1979 میں افغان مہاجرین کی آمد کے بعد خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع، بشمول سابق فاٹا، میں متعدد مہاجر کیمپ اور ریفیوجی ولیجز قائم کیے گئے تھے۔ ان کیمپوں کے قیام کے لیے مقامی زمین مالکان سے اراضی حاصل کی گئی، تاہم ابتدائی معاہدوں اور ریونیو ریکارڈ کی نقول کمشنر برائے افغان مہاجرین کے دفتر میں موجود نہیں ہیں۔

دستاویز کے مطابق 1981 میں اس وقت کے چیف سیکرٹری این ڈبلیو ایف پی کو افغان مہاجر کیمپوں کی دیکھ بھال کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا، جبکہ بعد ازاں 2015 میں کمشنریٹ برائے افغان مہاجرین کو وفاقی وزارت سیفران کے انتظامی کنٹرول میں منتقل کردیا گیا۔

مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ انتظامی منتقلی کے دوران اراضی سے متعلق معاہدے اور ریونیو ریکارڈ متعلقہ دفتر کے حوالے نہیں کیے گئے، جس کے باعث زمین مالکان کے معاوضوں کے معاملات میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا میں 18 فیصد سیلز ٹیکس کی عدم وصولی پر وفاق کا نوٹس

کمشنر برائے افغان مہاجرین کے مطابق زمین مالکان کے معاوضوں کے دعوے باقاعدگی سے چیف کمشنر برائے افغان مہاجرین اسلام آباد کو بھجوائے جاتے ہیں، تاہم وزارت سیفران کی جانب سے ادائیگی سے قبل اراضی کے اصل معاہدے فراہم کرنا لازمی قرار دیا جارہا ہے۔

اصل معاہدوں اور ریکارڈ کی عدم دستیابی کے باعث متعدد معاوضوں کے کیسز طویل عرصے سے التوا کا شکار ہیں۔

کمشنر برائے افغان مہاجرین نے صوبائی حکومت سے درخواست کی ہے کہ دستیاب تمام اراضی کے معاہدے، ریونیو ریکارڈ اور متعلقہ دستاویزات جلد از جلد فراہم کی جائیں تاکہ زمین مالکان کے معاوضوں کے کیسز نمٹائے جاسکیں اور برسوں سے زیر التوا معاملات کو حل کیا جاسکے۔

Scroll to Top