مکہ دفاعی معاہدہ: بھارت نے بھی پاک سعودی ترکیہ اتحاد کی اہمیت تسلیم کر لی

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تاریخی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر بھارتی میڈیا اور دفاعی ماہرین نے بھی اس کی اسٹریٹجک اہمیت کا اعتراف کر لیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس اور انڈیا ٹوڈےکے مطابق دفاعی انضمام، مشترکہ فوجی مشقیں، انٹیلی جنس شیئرنگ اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں اور جنگی تیاریوں کو مزید مضبوط کرے گی۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ معاہدے کے نتیجے میں پاکستان کو ترکیہ کی جدید ڈرون ٹیکنالوجی تک آسان رسائی حاصل ہوگی، جبکہ سعودی عرب کی مالی معاونت اور ترکیہ کی جدید دفاعی ٹیکنالوجی پاکستان کے اہم اسٹریٹجک مفادات کو پورا کرے گی۔

دفاعی ماہرین کے مطابق یہ سہ فریقی تعاون خطے میں طاقت کے توازن پر اثر انداز ہوگا اور بھارت کے لیے ایک نیا چیلنج بن چکا ہے۔

دوسری جانب 7 اگست کو طے پانے والے تاریخی “مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے” کا اسلامی دنیا اور اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کی جانب سے بھرپور خیرمقدم کیا گیا ہے۔ اس معاہدے کی تقریب میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان، وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شرکت کی۔

اس موقع پر ترک صدر رجب طیب اردوان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اجتماعی دفاع پر مبنی یہ معاہدہ سیکیورٹی، دفاعی تعاون اور دفاعی صنعت کے مشترکہ منصوبوں کو مزید مضبوط کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں : فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی انتھک محنت، غیر معمولی لگن اور مسلسل کوششوں سے مشترکہ دفاعی معاہدہ ممکن ہوا، وزیراعظم شہبازشریف

انہوں نے واضح کیا کہ مکہ دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ امن اور استحکام کے خواہاں تمام برادر ممالک کے لیے کھلا ہے اور امید ظاہر کی کہ یہ پورے خطے کے لیے خیر، برکت اور امن کا ذریعہ بنے گا۔

Scroll to Top