امریکی تھنک ٹینک جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن کی ایک رپورٹ میں افغانستان کی معدنی دولت کے حوالے سے طالبان حکومت کی پالیسیوں پر سوالات اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا گیا ہے کہ طالبان رجیم ملک کے وسیع معدنی وسائل کو قومی ترقی کے بجائے غیر شفاف آمدن، بااثر حلقوں کی سرپرستی اور سیاسی کنٹرول کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان میں ایک ٹریلین ڈالر سے زائد مالیت کے معدنی وسائل موجود ہیں، جبکہ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق ملک کے 34 صوبوں میں 1,400 سے زائد معدنی ذخائر کی نشاندہی کی جاچکی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان حکومت کان کنی کے معاہدوں اور لائسنسوں کے ذریعے مبینہ طور پر آمدن حاصل کرنے کے ساتھ اپنے وفادار نیٹ ورکس کو بھی فائدہ پہنچا رہی ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ طالبان مختلف کان کنی سرگرمیوں سے ٹیکس، رائلٹی، لائسنس فیس اور دیگر براہ راست ادائیگیاں وصول کرتے ہیں، جبکہ بعض علاقوں میں کان کنی کے آپریٹرز کو طالبان کے مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن کے مطابق معدنیات سے مالا مال ننگرہار طالبان کے دور میں کان کنی کے سب سے زیادہ معاہدوں والے صوبوں میں شامل ہوگیا ہے، جبکہ بدخشاں اور تخار میں طالبان سے منسلک مقامی رہنماؤں کے زیر اثر سونے کی کان کنی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کان کنی کے موجودہ نظام نے افغانستان میں ماحولیاتی اور سماجی مسائل کو بھی جنم دیا ہے۔ بعض علاقوں میں بچوں سے خطرناک کان کنی کا کام لیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جبکہ معدنی ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے طاقت کے استعمال اور مقامی آبادیوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کیے جانے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بعض معدنی کانوں پر قبضے کے لیے ہونے والی کشیدگی نے خونریز جھڑپوں کو بھی جنم دیا، جس سے مقامی سطح پر عدم استحکام میں اضافہ ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا میں افغان مہاجر کیمپوں کی زمینوں کا ریکارڈ غائب، معاوضوں کی ادائیگی متاثر
رپورٹ میں طالبان حکومت کے اس دعوے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے کہ مئی 2024ء میں وزارتِ معادن و پٹرولیم نے چین، قطر، ترکیہ، ایران اور برطانیہ سے 7 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری حاصل کی، تاہم ان معاہدوں کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے نہیں لائی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق جون 2024ء میں افغانستان کو ایکسٹریکٹو انڈسٹریز ٹرانسپیرنسی انیشی ایٹو (EITI) سے معطل کیا گیا، جسے کان کنی کے شعبے میں شفافیت اور احتساب کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔
جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جولائی 2024ء میں اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل طالبان رکن ہدایت اللہ بدری کو وزیرِ معادن و پٹرولیم مقرر کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق جون میں طالبان قیادت نے بدخشاں میں تقریباً ایک ہزار اسپیشل فورس اہلکار بھی تعینات کیے تاکہ صوبے میں کان کنی کے مقامات پر کنٹرول مزید مضبوط کیا جاسکے۔
رپورٹ میں مجموعی طور پر مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ افغانستان کی وسیع معدنی دولت ملک کی معاشی ترقی کے لیے اہم ذریعہ بن سکتی ہے، تاہم شفافیت، احتساب اور مؤثر نگرانی کے فقدان کے باعث اس شعبے سے حاصل ہونے والے فوائد عام افغان شہریوں تک مؤثر انداز میں منتقل نہیں ہو رہے۔





