پاکستان کے معروف ڈیجیٹل والٹ اور برانچ لیس بینکنگ پلیٹ فارم ایزی پیسہ نے صارفین پر نئے یا اضافی سروس چارجز عائد کیے جانے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کی سختی سے تردید کر دی ہے۔
ایزی پیسہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر عام رقم کی منتقلی پر اضافی ٹیکس یا نئی فیسوں سے متعلق پھیلائی جانے والی اطلاعات بالکل بے بنیاد ہیں اور عام صارفین کی بنیادی سہولیات پر کسی قسم کے خفیہ یا اضافی چارجز نافذ نہیں کیے گئے ہیں۔
کمپنی کی جانب سے جاری کردہ وضاحت کے مطابق ایزی پیسہ اکاؤنٹس کے درمیان رقم کی منتقلی اور حکومت کےراست (Raast) نیٹ ورک کے ذریعے مالیاتی لین دین پہلے کی طرح بدستور بالکل مفت ہے۔
کمپنی کے موجودہ شیڈول آف چارجز کے تحت ایپ میںایڈ فنڈز فیچر کے ذریعے لنکڈ بینک اکاؤنٹ سے رقم والٹ میں منتقل کرنے پر 2 فیصد اور کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ سے رقم شامل کرنے پر 3 فیصد سروس فیس عائد ہوتی ہےلیکن اگر صارف کسی دوسرے بینک کی آفیشل ایپ کے ذریعے ایزی پیسہ میں رقم بھیجے تو یہ سہولت اب بھی مفت ہے۔
دیگر بینک اکاؤنٹس میں رقم کی منتقلی یعنی آئی بی ایف ٹی کے لیے ماہانہ 25 ہزار روپے تک کی حد مفت رکھی گئی ہے جبکہ اس سے زائد رقم پر 0.1 فیصد فیس یا زیادہ سے زیادہ 200 روپے چارج کیے جاتے ہیں۔
مزید برآں موبائل ریچارج اور یوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی کی سہولت مفت فراہم کی جا رہی ہے جبکہ سم کارڈ، میموری کارڈ یا اے ٹی ایم کے ذریعے رقم نکالنے کی فیسیں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے منظور شدہ شیڈول کے مطابق جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل سستا ہونے کا امکان
ایزی پیسہ نے صارفین کو ہدایت کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کی غیر تصدیق شدہ افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے صرف آفیشل ویب سائٹ پر موجود معلومات پر ہی بھروسا کریں۔





