سلمان یوسفزئی
پشاور: خیبرپختونخوا میں چائلڈ لیبر سے متعلق ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ صوبے میں 7 لاکھ 34 ہزار 960 بچے مزدوری کر رہے ہیں، جن میں 5 لاکھ 13 ہزار 558 لڑکے اور 2 لاکھ 21 ہزار 394 لڑکیاں شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 5 سے 17 سال کی عمر کے یہ بچے تعلیم حاصل کرنے کے بجائے مختلف شعبوں میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔ چائلڈ لیبر کا شکار بچوں میں سے 57.6 فیصد بچے دورانِ کام بیماری یا کسی حادثے سے متاثر ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے دیہی علاقوں میں بچوں سے مشقت کی شرح شہری علاقوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
غربت اور معاشی مشکلات کے ساتھ ساتھ تعلیم سے دوری اور بنیادی سہولیات کی کمی کو بھی بچوں کے کم عمری میں مزدوری کرنے کی اہم وجوہات قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : بھارتی یوم آزادی کے موقع پر کشمیری آج دنیا بھر میں یوم سیاہ منائیں گے
ماہرین کے مطابق بچوں کو مشقت سے نکالنے کے لیے صرف قانون سازی کافی نہیں بلکہ قوانین پر مؤثر عمل درآمد، بچوں کی تعلیم تک رسائی اور معاشی طور پر کمزور خاندانوں کی معاونت بھی ضروری ہے۔
اگر غربت اور تعلیم سے متعلق بنیادی مسائل پر توجہ نہ دی گئی تو کم عمری میں مزدوری کرنے والے بچوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔





