عمران خان سے متعلق پی ٹی آئی کے جھوٹے دعوے بے نقاب، بین الاقوامی میڈیا نے تنہائی اور مبینہ تشدد کا بیانیہ مسترد کردیا

اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی عمران خان کی قیدِ تنہائی، مبینہ تشدد اور طبی سہولیات سے متعلق پاکستان تحریک انصاف کے دعووں پر عالمی میڈیا کی رپورٹس نے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ مختلف بین الاقوامی رپورٹس میں پی ٹی آئی کے دعووں کے برعکس دستیاب معلومات اور طبی صورتحال کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی کی جانب سے مسلسل یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی رہی کہ بانی پی ٹی آئی کو تنہائی میں رکھا گیا ہے، انہیں مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کی جارہیں اور ان کے علاج معالجے میں غفلت برتی جارہی ہے، تاہم عالمی میڈیا کی رپورٹس میں ان دعوؤں کی مکمل تائید سامنے نہیں آئی۔

بین الاقوامی رپورٹس میں عمران خان کی صحت اور جیل میں دستیاب سہولیات سے متعلق مختلف پہلوؤں کو سامنے لایا گیا ہے، جس کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے پیش کیے جانے والے بیانیے اور دستیاب معلومات کے درمیان فرق نمایاں ہوا ہے۔

رپورٹس میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ عمران خان کی صحت سے متعلق معاملات پر طبی معائنوں کا سلسلہ جاری رہا ہے اور ضرورت کے مطابق انہیں طبی سہولیات فراہم کی جاتی رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : عمران خان کی ہسپتال منتقلی، سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر

حالیہ صورتحال میں بھی عمران خان کو طبی معائنے کے لیے پمز اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ماہر ڈاکٹروں نے ان کا تفصیلی معائنہ کیا۔ حکام کے مطابق طبی معائنے کے بعد انہیں صحت کے حوالے سے فِٹ قرار دیا گیا۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان کی صحت اور جیل میں حالات سے متعلق اپنے دعوے بدستور دہرائے جارہے ہیں، تاہم عالمی میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹس نے ان دعووں کی صداقت اور ان کے لیے پیش کیے جانے والے شواہد پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

حکومتی مؤقف کے مطابق عمران خان کو جیل میں باقاعدہ طبی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں اور ان کی صحت کا مسلسل خیال رکھا جارہا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ضرورت پڑنے پر انہیں اسپتال منتقل کرکے ماہر ڈاکٹروں سے معائنہ بھی کرایا جاتا ہے، جس کا حالیہ پمز منتقلی کا واقعہ بھی واضح ثبوت ہے۔

Scroll to Top