کاشف عزیز
پشاور: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ قرآن کی تعلیمات کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی آج بھی ضرورت ہے، اللہ کی ذات اور اس کی جانب سے بھیجا گیا دین ہر شخص کی اصلاح کا ذریعہ ہے۔
ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اسلام کا بنیادی مقصد معاشرے میں عدل قائم کرنا ہے، جبکہ ملی اور مملکتی زندگی میں اللہ کے عدل کا قیام ایک بڑی نعمت ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئین میں واضح طور پر درج ہے کہ ملک میں قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا، تاہم افسوس ہے کہ اس آئینی شق پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا۔ ان کے مطابق آئین کی تشکیل میں علماء کی جدوجہد شامل رہی ہے اور اگر اس پر عمل نہیں ہورہا تو یہ حکمرانوں کی غفلت ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے دفاعی قوت کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ دشمن کے مقابلے میں دفاعی قوت کا ہونا ضروری ہے۔ جو قوت عوام کے اختیار میں ہے، اسے حاصل کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ قوت کا حصول ایک الگ معاملہ ہے جبکہ اس کا استعمال الگ ہے، اور اللہ نے دشمن کے دل پر دفاعی قوت کے ذریعے دھاک بٹھانے کا حکم دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دفاعی قوت سے کبھی انکار نہیں کیا۔ اگر کوئی سیاسی کارکن فوج کی حدود میں مداخلت نہیں کرسکتا تو ازروئے شریعت فوج کو بھی سیاست میں مداخلت کا حق نہیں ہونا چاہیے۔ مولانا فضل الرحمان نے سیاست میں فوجی مداخلت کو مسترد کردیا۔
نئی قانون سازی پر بھی تحفظات
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حال ہی میں قانون سازی کی گئی ہے، لیکن اس پر کسی نے بحث نہیں کی۔ قانون سازی کی جو شکل سامنے آرہی ہے، وہ آئین سے متصادم دکھائی دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : شاہین مسلم ٹاؤن چمن آباد میں 13 گھنٹے سے زائد بجلی بند، شہری پریشان
ان کے مطابق وزیراعظم کے اختیارات بھی ایک شخص میں مرکوز کردیے گئے ہیں۔ اگر کوئی قانون آئین کے منافی ہو تو وہ غیر مؤثر ہوگا، تاہم ابھی تک نہ اس کی واضح طور پر نشاندہی کی گئی ہے اور نہ ہی اسے غیر مؤثر قرار دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ادارے کے اندر انتظامی تبدیلیاں کی جائیں تو اس سے ان کا کوئی سروکار نہیں، تاہم پارلیمنٹ کے اختیارات کسی مقتدر فرد کو منتقل کرنا قابل قبول نہیں۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ کنٹرول اور کمانڈ وفاقی حکومت کا اختیار تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ ان معاملات پر اصولی اختلاف کر رہے ہیں اور کسی کو گالی نہیں دے رہے۔
اپوزیشن کے اتحاد پر زور
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ نے بتایا کہ وہ اپوزیشن لیڈر سے بھی ملاقات کرچکے ہیں اور پارلیمنٹ کے اندر مشترکہ نکات پر متحد ہونے پر زور دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو پارلیمنٹ کے اندر مشترکہ موقف اختیار کرنا چاہیے تاکہ خرابیوں کو پیدا ہونے سے روکا جاسکے۔ مولانا فضل الرحمان کے مطابق آج کل اپوزیشن کی اسی حوالے سے میٹنگز بھی جاری ہیں۔





