وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان رجیم کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے پاکستان پر عائد کیے گئے الزامات کو مکمل طور پر گمراہ کن، بے بنیاد اور من گھڑت قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
افغان میڈیا آماج نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا تھا کہ صوبہ بدخشان میں ہونے والے مسلح تصادم میں پاک فوج بھی موجود تھی۔
وزارتِ اطلاعات نے اس حوالے سے جاری کیے گئے میں واضح کیا ہے کہ بدخشان میں جاری صورتحال کو پاکستان سے جوڑنا حقائق کے منافی ہے۔
وزارت کے مطابق دستیاب آزادانہ رپورٹس سے ثابت ہوتا ہے کہ بدخشان میں ہونے والی جھڑپیں افغان طالبان کی غیر نمائندہ اور جابرانہ پالیسیوں کے خلاف ان کا اندرونی معاملہ اور مسلح جدوجہد کا نتیجہ ہیں جو طالبان انتظامیہ کو درپیش شدید سیکیورٹی و انتظامی چیلنجز کی عکاسی کرتی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ افغان طالبان حکومت افغانستان کے اندر کم ہوتے ہوئے اثر و رسوخ اور بڑھتی ہوئی داخلی مزاحمت پر پردہ ڈالنے کے لیے پاکستان مخالف پروپیگنڈے کا سہارا لے رہی ہے تاکہ اسے بیرونی معاملہ ظاہر کیا جا سکے۔
وزارتِ اطلاعات و نشریات نے اپنے بیان میں اعادہ کیا کہ پاکستان ہمیشہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان کا حامی رہا ہے اور اپنے پڑوسی ملک کو غیر مستحکم کرنے میں اس کی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں : بنوں امن کمیٹی کا سرغنہ قرآن پر حلف اٹھانے کے بعد بھی سرکاری اسلحہ چوری کرنے میں ملوث نکلا ، تحقیقاتی رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات
ترجمان نے افغان طالبان پر زور دیا کہ وہ پاکستان پر بے بنیاد الزام تراشی کے بجائے اپنی ناکام حکمرانی کے باعث پیدا ہونے والے اندرونی مسائل پر توجہ دیں۔





