خیبرٹیچنگ ہسپتال

خیبرٹیچنگ ہسپتال میں 50 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف، شوکت خانم کاآئی ٹی ڈیٹا فراہم کرنے سے انکار، سینئر صحافی عرفان خان کے سنسنی خیز انکشافات

خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں گزشتہ 6 سالوں کے دوران 50 کروڑ روپے سے زائد کی خطیر رقم کی بدعنوانی اور سنگین مالی بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ 

سینئر صحافی عرفان خان نے اپنے وی لاگ میں 16 صفحات پر مشتمل فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی انکوائری رپورٹ کے ثبوت پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ہسپتال میں ہر ماہ 70 سے 80 لاکھ روپے کی کرپشن کی جاتی رہی جو سیدھی ہسپتال انتظامیہ کی جیبوں میں جاتی رہی۔

پیتھالوجی ڈیپارٹمنٹ کی ای میل اورآئی ٹی ریکارڈ میں گھپلا

صحافی عرفان خان کے مطابق اس بڑے مالیاتی سکینڈل کا سراغ اس وقت ملا جب پیتھالوجی ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین نےآئی ٹی اور فزیکل ریکارڈ کے مابین واضح فرق کی نشان دہی کرتے ہوئے ای میل کے ذریعے شکایت درج کرائی۔ اس کے بعد قائم کی جانے والی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ خیبر ٹیچنگ ہسپتال کاآئی ٹی سسٹم شوکت خانم کینسر میموریل ہسپتال کی جانب سے فراہم کردہ ہے اور اصل گڑبڑ اسی سسٹم میں کی جاتی رہی۔

شوکت خانم آئی ٹی ٹیم کو ڈیٹا فراہم نہ کرنے کی ہدایت

تحقیقاتی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے عرفان خان نے بتایا کہ جب کمیٹی نے شوکت خانم کی آئی ٹی ٹیم سے مریضوں کی تعداد اور جمع شدہ فیسوں کے ڈیٹا بیس لاگز مانگے تو انہوں نے تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ خیبرٹیچنگ ہسپتال کی انتظامیہ اور ہاسپٹل ڈائریکٹر نے شوکت خانم کی آئی ٹی ٹیم کو سختی سے ہدایت کر رکھی تھی کہ ہاسپٹل ڈائریکٹر کی اجازت کے بغیر یہ اہم ریکارڈ کسی بھی انکوائری کمیٹی کے ساتھ شیئر نہ کیا جائے۔

انکوائری شروع ہوتے ہی آمدن میں 73 لاکھ کا اچانک اضافہ

رپورٹ کے سنسنی خیز انکشاف کے مطابق خیبرٹیچنگ ہسپتال کے انسٹیٹیوشنل بیسڈ پریکٹس کی ماہانہ آمدن جون 2025 میں صرف 48 لاکھ روپے تھی لیکن جیسے ہی انکوائری کا آغاز ہوا تو جولائی 2025 میں محض 20 دنوں کے اندر یہ آمدن بڑھ کر 1 کروڑ 21 لاکھ روپے تک جا پہنچی۔ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے رپورٹ میں سوال اٹھایا کہ اگر ریکارڈ میں ہیرا پھیری اور کرپشن نہیں ہو رہی تھی تو صرف چند دنوں میں آمدن میں 160 فیصد سے زائد کا یہ غیر معمولی جمپ کیسے ممکن ہوا؟

سیاسی اثر و رسوخ اور انکوائری دبانے کے الزام

عرفان خان نے انکشاف کیا کہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے اپنی سفارشات میں بورڈ آف گورنرز کو واضح کیا تھا کہ اس کرپشن کی تحقیقات نیب، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ یا کسی غیر جانبدار ادارے سے تھرڈ پارٹی آڈٹ کے ذریعے کرائی جائیں۔ تاہم 1 سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود بورڈ آف گورنرز اور انتظامیہ نے رپورٹ کو دبا رکھا ہے۔

 اس خاموشی کی بڑی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ ہسپتال انتظامیہ کے چند اہم افراد کی سیاسی وابستگی پاکستان تحریک انصاف اور انصاف ڈاکٹرز فورم سے ہے، جنہیں قانونی کارروائی سے بچانے اور شوکت خانم ہسپتال کی بدنامی کو روکنے کے لیے اس سنگین رپورٹ کو اینٹی کرپشن یا نیب کے سپرد نہیں کیا گیا۔

Scroll to Top