لاہور ہائیکورٹ نے کم عمر لڑکی کا نکاح غیر قانونی قرار دیتے ہوئے 15 سالہ بچی کو چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔
لاہورہائیکورٹ کے جسٹس منور اقبال دوگل نے شہری محمد اسلم کی درخواست پر حکم جاری کرکے درخواست منظور کرتے ہوئے حنا اسلم کا نکاح غیر قانونی قرار دے د یا۔
درخواست گزار نے جسٹس آف پیس کے احکامات کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس کی بیٹی حنا اسلم کی عمر 15 سال ہے، اس سے زبردستی نکاح کیا گیا۔ عدالت ملزم لڑکے کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے۔
عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے حنا اسلم کا نکاح غیر قانونی قرار دے د ی، ہائیکورٹ نے اس شادی کے خلاف نئی ایف آئی آر کی درخواست پر پولیس کو تحقیقات کا حکم بھی دیا۔
عدالت نے جسٹس آف پیس کا اندراج مقدمہ کی درخواست خارج کرنے کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کا معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گیا
عدالت نے بچی کو چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے حوالے کرنے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ بچوں کی مرضی اہم ہے لیکن کم عمری کے باعث اسے خود بخود فیصلہ کن نہیں سمجھا جا سکتا ۔
اپنے فیصلے میں عدالت کا مزید کہنا تھا کہ کم عمر بچوں کی شادی کے خلاف قانون کا مقصد بچوں کے حقوق اور تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔





