پاکستان نے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا بین الاقوامی بانڈ جاری کردیا

Pakistan SCO Summit 2026

اسلام آباد: پاکستان نے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا بین الاقوامی بانڈ جاری کرتے ہوئے دو ٹرینچز میں مجموعی طور پر 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈ جاری کردیئے ہیں، جسے عالمی معاشی میدان میں پاکستان کی اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان کو یورو بانڈ کے اجرا کے لیے 6 ارب ڈالر کی پیشکشیں موصول ہوئیں، جبکہ ملک کو پہلی مرتبہ 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈ یکمشت جاری کرنے کا موقع ملا ہے۔

وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ یورو بانڈ کا کامیاب اجرا پاکستان پر عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کا عکاس ہے۔ پاکستان کی قرض واپس کرنے کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کے باعث یورو بانڈ کا کامیاب اجرا ممکن ہوا۔

حکام کے مطابق پاکستان نے ساڑھے پانچ سالہ یورو بانڈ کے ذریعے 1.75 ارب ڈالر حاصل کیے، جس پر سود کی شرح 7.50 فیصد ہوگی، جبکہ 10 سالہ یورو بانڈ سے 1.25 ارب ڈالر حاصل کیے گئے ہیں، جس پر 7.90 فیصد سود ادا کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں : صوابی میں فائرنگ کے دو مختلف واقعات، ایک نوجوان جاں بحق، دوسرا شدید زخمی

بانڈز میں عالمی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں نے بھرپور دلچسپی ظاہر کی اور طلب جاری کی گئی رقم سے تقریباً دوگنا رہی۔

پہلے پانڈا بانڈ کے کامیاب اجرا کے بعد پاکستان نے نئے گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ پروگرام کے تحت پہلی مرتبہ بانڈ جاری کیا ہے۔ اس اقدام سے عالمی کیپیٹل مارکیٹس سے مختلف ذرائع کے ذریعے مالی معاونت حاصل کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔

وزارت خزانہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد صرف مزید قرض حاصل کرنا نہیں بلکہ وسیع تر حکمت عملی کے تحت قرضوں کا مؤثر اور فعال انتظام یقینی بنانا ہے۔

حکمت عملی میں مالی معاونت کے ذرائع کو متنوع بنانا، قرض کی مدت بڑھانا، ری فنانسنگ اور قرضوں کی تجدید سے وابستہ خطرات کم کرنا اور معاشی طور پر فائدہ مند ہونے کی صورت میں قلیل مدتی اور مہنگے قرضوں کی جگہ طویل مدتی اور مسابقتی شرح پر حاصل کی گئی فنانسنگ لانا شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں : رجسٹری کی کاپی گھر بیٹھے تلاش اور ڈاؤن لوڈ کرنے کی سہولت، طریقہ کار جاری

پاکستان پہلے ہی ملکی قرضوں کی بڑے پیمانے پر قبل از وقت ادائیگی کر چکا ہے، جبکہ بیرونی فنانسنگ تک بھی اسی نظم و ضبط کو وسعت دینا اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

یورو بانڈ کیا ہوتا ہے؟

یورو بانڈ بنیادی طور پر ایسا بانڈ ہے جسے کوئی حکومت یا ادارہ اپنی مقامی کرنسی کے بجائے کسی غیر ملکی کرنسی میں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے جاری کرتا ہے۔ پاکستان کے معاملے میں یہ بانڈ امریکی ڈالر میں جاری کیا جاتا ہے۔

حکومتیں یورو بانڈز کے ذریعے عالمی سرمایہ منڈیوں سے براہ راست مالی وسائل حاصل کرسکتی ہیں، جس سے انہیں مقامی ذرائع کے علاوہ بیرونی سرمایہ کاری تک بھی رسائی حاصل ہوتی ہے۔

گزشتہ روز مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد نے بتایا تھا کہ پاکستان کی جانب سے 5 سالہ اور 10 سالہ مدت کے دو مختلف ڈالر بانڈز پر مشتمل ڈوئل ٹرانچ یورو بانڈ پیش کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے عالمی سرمایہ کاروں سے فنڈز حاصل کیے جائیں گے۔

خرم شہزاد کا کہنا تھا کہ یورو بانڈ کا اجرا پاکستان کی عالمی سرمایہ مارکیٹ تک دوبارہ رسائی کی جانب ایک اہم قدم ہے، جبکہ بانڈ کے اجرا کا فیصلہ عالمی مارکیٹ کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

مشیر خزانہ کے مطابق معاشی استحکام اور مضبوط میکرو اکنامک اشاریوں کے باعث عالمی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد بحال ہو رہا ہے۔ یورو بانڈ کا اجرا عالمی مالیاتی نظام میں پاکستان کی دوبارہ مؤثر شمولیت کی جانب اہم پیشرفت ہے۔

Pakistan SCO Summit 2026
Scroll to Top