خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع کو الگ صوبے کا درجہ دینے کی تجویز پر ضلع اورکزئی کے باشندوں نے اس تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے علاقے میں ترقی، خوشحالی اور عوامی مسائل کے پائیدار حل کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر جنوبی اضلاع پر مشتمل ایک نیا صوبہ تشکیل دیا جاتا ہے تو اس سے خطے کے انتظامی امور اور نظامِ حکومت میں بہتری آئے گی۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ الگ صوبہ بننے کی صورت میں علاقے کو زیادہ فنڈز ملیں گے جس سے تعلیم اور صحت کی سہولیات بہتر ہوں گی اور تباہ حال بنیادی ڈھانچے بالخصوص سڑکوں کی تعمیر و مرمت ممکن ہو سکے گی۔
اورکزئی کے عوام کے مطابق سڑکوں اور تعلیمی نظام کی زبوں حالی کے باعث شہریوں اور طالب علموں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نیا صوبہ بننے سے نہ صرف روزگار اور آمدن کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ صحت، بجلی اور روزمرہ سہولیات کی فراہمی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔
یہ بھی پڑھیں : میجر جنرل عاطف بن اکرم کی بطور ڈی جی سی آئی ایس آئی تعیناتی کا دعویٰ بے بنیاد قرار
انہوں نے انتظامی امور اور ترقیاتی منصوبوں کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔





