پوسٹ گریجویٹ نرسنگ کالج حیات آباد پشاور کی پرنسپل کا مؤقف بھی سامنے آگیا

Pakistan SCO Summit 2026

پشاور: پشاور کے حیات آباد میں پوسٹ گریجویٹ نرسنگ کالج میں طلبہ کے احتجاج کے معاملے پر انتظامیہ اور مظاہرین کے درمیان صورتحال کشیدہ ہوگئی، جبکہ پولیس نے متعدد طلبہ کو حراست میں لے لیا۔

کالج کی پرنسپل کے مطابق دو میل طلبہ کے خلاف کالج کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی سے متعلق سنجیدہ الزامات تھے، جن کے سلسلے میں دونوں طلبہ کو انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کے لیے طلب کیا گیا تھا۔

پرنسپل کا کہنا ہے کہ انکوائری میں پیش ہونے کے بجائے دونوں طلبہ مزید طلبہ کو اپنے ساتھ لے کر دفتر پہنچے، جہاں فیکلٹی کو ہراساں کرنے، زدوکوب کرنے، دھمکیاں دینے اور دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ ان کے مطابق طلبہ نے انکوائری کمیٹی ختم کرنے اور اپنے خلاف شکایات واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا۔

پرنسپل نے بتایا کہ طلبہ بعد ازاں کالج کی کلاسز میں گئے اور وہاں موجود طالبات کو بھی احتجاج میں شامل ہونے پر مجبور کیا۔ ان کے مطابق کالج کے مختلف گیٹس کو تالے لگا دیے گئے جبکہ فیکلٹی ارکان کو بھی محصور رکھا گیا۔

کالج کی فیکلٹی ارکان نے بھی انتظامیہ کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ احتجاج کے دوران طلبہ نے کلاسز میں داخل ہوکر طالبات کو باہر نکالا، بعض طلبہ کی کرسیاں الٹ دیں اور ان کے ساتھ بدتمیزی بھی کی۔ فیکلٹی کے مطابق اس صورتحال کے باعث کالج میں تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور خوف و ہراس کی فضا پیدا ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں : پشاور: حیات آباد نرسنگ کالج کے طلبہ پر پولیس کا لاٹھی چارج، متعدد گرفتار

دوسری جانب پولیس حکام کے مطابق کالج انتظامیہ کی جانب سے طلبہ کے خلاف شکایت موصول ہونے پر تھانہ حیات آباد کی پولیس نے کارروائی کی۔ ایس پی حیات آباد کے مطابق دو طلبہ کو کارروائی کے بعد تھانے منتقل کیا جا رہا تھا کہ راستے میں دیگر طلبہ نے پولیس کو روکنے اور مزاحمت کرنے کی کوشش کی، جس کے بعد تقریباً پانچ طلبہ سمیت دیگر نامزد افراد کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔

پولیس کے مطابق گرفتار طلبہ کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے قانون کے مطابق کارروائی شروع کردی گئی ہے، جبکہ کالج انتظامیہ کو مکمل تعاون اور تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

ادھر سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک بیان میں طلبہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کے حق میں پرامن احتجاج کر رہے تھے، تاہم پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور متعدد طلبہ کو حراست میں لے لیا۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو کے حوالے سے بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پولیس اہلکار طلبہ کے خلاف طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں گاڑیوں میں منتقل کر رہے ہیں۔

طلبہ نے پولیس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے واقعے کا نوٹس لینے اور گرفتار ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ مسائل کا حل تشدد کے بجائے مذاکرات کے ذریعے نکالا جانا چاہیے اور مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔

کالج انتظامیہ نے طلبہ کے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاملہ صرف دو طلبہ کے خلاف جاری انکوائری کا ہے اور دیگر طلبہ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انکوائری کا مقصد طلبہ کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دینا ہے۔

Pakistan SCO Summit 2026
Scroll to Top