جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ملک میں نئے صوبوں کے بجائے انتظامی یونٹس ہونے چاہئیں، جس کا طریقہ آئین میں موجود ہے۔ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کا فیصلہ اتفاقِ رائے سے ہونا چاہیے۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ ملک میں وڈیرہ شاہی اور جاگیرداری کا نظام ہے، جبکہ سیاسی جماعتوں میں بھی جگہ جگہ بادشاہت قائم ہے۔ صوبوں کو پی ایف سی ایوارڈ دیا جائے اور مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرح بلدیاتی حکومتیں بھی بااختیار ہونی چاہئیں اور چاروں صوبوں میں ایک مربوط نظام ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث زور پکڑنے لگی
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ سندھ میں انتظامی معاملات پر حساسیت زیادہ ہے، جبکہ دیگر صوبوں میں اتنا بڑا مسئلہ نہیں۔ انتظامی معاملہ سامنے آتے ہی پیپلزپارٹی لسانی تعصب کو ہوا دیتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ اختیار چاہتے ہیں، اسی لیے سندھ میں احساسِ محرومی زیادہ ہے۔





